اقامت دین
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۵۲
حالات ایک دوسرے سے الگ تھے۔ اس لئے انہیں الگ الگ شریعت اور منہاج دیے گیے۔ اسی طرح خود امت مسلمہ کے حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہ سکتے۔ اس لیے اس امت کے لیے بھی مختلف حالات کے اعتبار سے اس کی وہ ذمہ داریاں مختلف ہوں گی جو شریعت اور منہاج کی نسبت سے اس سے مطلوب ہیں۔
مثلاً امت مسلمہ کا کوئی گروہ بے اقتدار ہو تو اس پر صرف دین کے مذکورہ بنیادی تقاضے ہی فرض ہوں گے۔ قانون اور حدودِ شرعی کا نفاذ اس وقت اس سے مطلوب نہ ہوگا۔ اسی طرح اگر امت پر کھلی جارحیت کی جائے اور اعراض کی تدبیریں ناکام ہو جائیں تو اس وقت بشرطِ استطاعت دفاع اس پر فرض ہو جائے گا۔ لیکن اگر حالات معتدل ہوں تو اس سے یہ مطلوب ہوگا کہ وہ پُر امن طریق کار کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنا کام کرے۔
کچھ لوگوں نے قرآن کی سیاسی تفسیر کر کے یہ نظریہ بنایا کہ اسلام ایک مکمل نظام ہے اور اہلِ ایمان پر فرض ہے کہ وہ اس کے مختلف حصوں میں فرق نہ کرتے ہوئے اس کے سارے احکام کو بہ تمام و کمال زمین پر نافذ کریں۔ ان لوگوں کو اپنے اس خود ساختہ ’’انقلابی‘‘ نظریہ کے لیے قرآن میں کوئی آیت نہیں ملی۔ اس کے بعد انہوں نے یہ کیا کہ لفظی مناسبت کا سہارا لے کر سورۂ الشوریٰ کی مذکورہ آیت کو لے لیا اور اس کے حوالہ سے یہ دعویٰ کرنے لگے کہ اس آیت میں اقامتِ دین سے مراد اقامتِ نظام ہے۔ اقیمو الدین کا مطلب یہ ہے کہ دین کے تمام احکام کو مکمل طور پر زمین کے اوپر نافذ کیا جائے۔
یہ بلاشبہ غیر سنجیدگی کی حد تک ایک غیر علمی بات ہے۔ جب یہاں دینِ مشترک کی اقامت کا ذکر ہے تو سارے دینی احکام کو اس آیت کے حکم میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔ کیوں کہ جیسا کہ عرض کیا گیا، شریعت اور منہاج کا دینی حصہ تمام انبیاء کے یہاں یکساں نہیں ہے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، دین و شریعت)
اس معاملہ میں ان سیاسی مفسرین کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ یہ کرتے ہیں کہ وہ دین کو جزئی اور کلی
‹ Previous page Next page › Contents of September 2003 All issues