Al-Risala · September 2003 · page 53

Analogy is the weakest form of argument.

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۵۳

حصوں میں تقسیم کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ اگر اقامت دین میں سارے دینی احکام کا نفاذ مراد نہ لیا جائے تو یہ صرف جزئی احکام کی اطاعت کے ہم معنی ہوگا جب کہ مطلوب یہ ہے کہ کلی احکام کی اطاعت کی جائے۔

مگر جزئی اور کلی کی یہ تقسیم صرف ایک مغالطہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں جو تقسیم مراد ہے وہ مطلق اور مشروط کی ہے۔ یعنی مذکورہ آیت میں الدین سے مراد دین کا وہ حصہ ہے جو مطلق طور پر مطلوب ہوتا ہے اور شریعت اور منہاج سے مراد دین کا وہ حصہ ہے جو حالات کی نسبت سے مطلوب ہوتا ہے۔

اس سیاسی تفسیر کے بعض حامی یہ کرتے ہیں کہ وہ غیر متعلق مثالوں سے اپنی بات ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالاں کہ تمام اہل علم جانتے ہیں کہ فرضی مثالوں سے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ:

Analogy is the weakest form of argument.

مثلاً اقامت کا لفظ لے کر وہ کہتے ہیں کہ اگر خیمہ گرا ہوا ہے تو اسے کھڑا کیا جائے گا اور اگر کھڑا ہے تو کھڑا رکھا جائے گا۔ اگر آندھی آ رہی ہے تو اس کی ہر طرح سے حفاظت کی جائے گی کہ خیمہ گر نہ جائے۔ اس کے کھونٹے خوب اچھی طرح مضبوط کر دیے جائیں گے، اس کی رسیاں خوب کس دی جائیں گی۔ کوئی رسی کمزور ہو تو اس کو بدل دیا جائے گا۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ جھکڑ بہت زور دار آرہا ہو تو لوگ خیمے کی طنابیں اور بانس پکڑ کر کھڑے رہیں ۔ یہ سارے کام اس لیے ہیں کہ خیمے کو کھڑا رکھنا ہے۔ اور اگر وہ گر جائے تو لامحالہ اب اس کو از سر نو کھڑا کرنا ہوگا۔

یہ مثال مکمل طور پر ایک غیر متعلق (irrelevant) مثال ہے۔ الدین خیمہ کی طرح کوئی خارجی ڈھانچہ نہیں۔ الدین مکمل طور پر داخلی ربانی صفات سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ الدین کی تصغیر ہے کہ اس کو خیمہ جیسی چیز کے مشابہ قرار دیا جائے۔

الدین کی اقامت کا مطلب کسی خارجی خیمہ کو کھڑا کرنا نہیں ہے بلکہ خود اپنے آپ کو اللہ کے

‹ Previous page Next page › Contents of September 2003 All issues

Printed page