رسول اللہ کا پیغام امن
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۵۷
ہیں۔ چنانچہ انہوں نے یہ فارمولا دیا کہ یکطرفہ عمل کے ذریعہ جنگ سے اوائڈ کرو اور امن کی حالت میں پیدا ہونے والے مواقع کو اپنی تعمیر اور استحکام کے لیے استعمال کرو۔
پیغمبر اسلام کی پوری زندگی اسی اعلیٰ حکمت کی مثال ہے۔ مکہ کے ابتداعی زمانہ میں کعبہ (بیت اللہ) میں ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ پیغمبر اسلام نے بت کے سوال پر عملی ٹکراؤ سے بچتے ہوئے پرامن انداز میں دعوت توحید کا کام شروع کر دیا۔ مکہ کے آخری زمانہ میں جب کہ وہاں کے سردار آپ کو قتل کرنے کے درپے ہوگئے تب بھی آپ نے اُن سے ٹکراؤ نہیں کیا بلکہ خاموشی کے ساتھ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے اور وہاں اپنا دعوتی مرکز قائم کیا۔ ہجرت کے بعد قریش مکہ نے آپ کے خلاف با قاعدہ جنگ چھیڑ دی مگر آپ نے حسن تدبیر کے ذریعہ اُن سے دس سال کا نا جنگ معاہدہ کر لیا جو صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس صلح نے آپ کو اپنے دعوتی کام کے لیے وسیع مواقع دے دیے۔
پیغمبر اسلام نے اس طرح امن کو ایک مستقل پالیسی کی حیثیت دے دی۔ اس حکیمانہ پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف ۲۳ سال میں پورے عرب میں اسلامی انقلاب آ گیا۔ یہ انقلاب اتنا زیادہ پرامن تھا کہ اس کو بجا طور پر غیر خونی انقلاب (bloodless revolution) کہا جاسکتا ہے۔ اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ دعوت کا سائنٹفک اسلوب کیا ہے، وہ ہے بات کو اس انداز میں کہنا کہ آج کا انسان محسوس کرے کہ اُس کے ذہن کو ایڈرس کیا جارہا ہے۔ اُس میں اُس کو اپنے سوال کا جواب ملنے لگے۔ وہ سوال دیگر، جواب دیگر کا مصداق نہ ہو بلکہ سائل کے ذہن میں جو سوال ہو، عین اُسی کا جواب اُس کو سننے کو ملے۔
اس مقصد کے لیے بیک وقت دو باتوں کی گہری واقفیت ضروری ہے۔ ایک یہ کہ داعی دین کی حقیقی تعلیمات سے بخوبی طور پر واقف ہو اور دوسرے یہ کہ اُس نے مدعو کے ذہن کا غیر جانبدارانہ مطالعہ کیا ہو۔ اسی کے ساتھ یہ کہ دائی کے دل میں مدعو کے لیے سچی خیر خواہی موجود ہو۔ ان شرطوں کی کامل یکجائی کے بعد داعی کے اندر کلام کا جو اسلوب بنے اُسی کا نام سائنٹفک اسلوب ہے۔ (۱۴ مئی ۲۰۰۳)
‹ Previous page Next page › Contents of September 2003 All issues