رسول اللہ کا پیغام امن
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۵۶
ہوجاتے ہیں۔ جب کہ سیرت کے جلسوں کا مقصد یہ ہے کہ لوگ ان سے اسوہ اخذ کریں، نہ کہ فخر۔ ظاہر ہے کہ جب سیرت کی تقریروں میں فخر کی غذا دی جارہی ہو تو لوگ اُن سے فخر ہی لیں گے، نہ کہ اسوہ۔ کیوں کہ اُنہیں اسوہ کی خوراک تو دی ہی نہیں گئی۔
موجودہ انسان جن خیالات میں جیتا ہے وہ مذکورہ ذہن سے بالکل مختلف ہے۔ آج کا تعلیم یافتہ انسان یہ جاننا چاہتا ہے کہ موجودہ حالات میں پیغمبر اسلام کا ریلیوینس (relevance) کیا ہے۔ آج کے مسائل کے بارے میں اسلام کیا رہنمائی دیتا ہے۔ مثلاً آج تمام سوچنے والے ذہن تشدد کے مسئلہ سے پریشان ہیں۔ جنگ اور امن کا موضوع آج کا سب سے بڑا فکری چیلنج بنا ہوا ہے۔ ایسی حالت میں لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ اس معاملہ میں پیغمبر اسلام کی زندگی سے کیا رہنمائی ملتی ہے۔ مگر مذکورہ قسم کی تقریروں میں اس کا کوئی جواب نہیں۔ اس پہلو سے یہاں میں چند باتیں عرض کروں گا۔ اہل علم امن کی تعریف عدم جنگ (absence of war) کے الفاظ میں کرتے ہیں۔ یہ تعریف خالص فنی اعتبار سے درست ہوسکتی ہے مگر وہ آج کے انسان کو بہت زیادہ اپیل نہیں کرتی۔ آج کے انسان کے نزدیک اس قسم کا امن صرف ایک انفعالی امن (passive peace) ہے۔ امن کی اس تعریف میں اس سوال کا جواب نہیں ہے کہ تشدد کے بغیر اپنے مسائل کا حل کس طرح نکالا جائے ۔ اس اعتبار سے یہ انسان کے لیے پیغمبر اسلام کی بہت بڑی دین ہے۔ انہوں نے ربانی ہدایت کے تحت یہ کیا کہ انفعالی امن کو فعال امن (active peace) میں تبدیل کردیا۔ انہوں نے امن برائے امن کے اصول کو امن برائے عمل کے اصول کی حیثیت دے دی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ انہوں نے امن کو ایک وقفہ تعمیر (constructive interlude) کے طور پر استعمال کرنا سکھایا: The policy of the Prophet in bilateral matters was based on the principle of buying time. پیغمبر اسلام نے ربانی ہدایت کے تحت یہ دریافت کیا کہ جنگ اور ٹکراؤ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ کام کے مواقع یکسر ختم ہوجاتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں امن سے کام کے تمام مواقع کھلتے
‹ Previous page Next page › Contents of September 2003 All issues