Al-Risala · September 2003 · page 63

ایک ملاقات

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۶۳

میرے مطالعہ کے مطابق، موجودہ زمانہ کے خود مسلم داعیوں اور رہنماؤں کا حال بھی تقریباً یہی ہے۔ موجودہ زمانہ میں جتنے بھی عرب یا غیر عرب علماء اور مفکرینِ اسلام کی خدمت کے لیے اُٹھے وہ کسی نہ کسی اعتبار سے ردعمل کی نفسیات کے تحت اُٹھے۔ کوئی استعمار کے مسئلہ سے بھڑک اُٹھا۔ کوئی صہیونیت کی زمین سے ابھرا۔ کسی کو مغربی تہذیب کے غلبہ نے بے چین کر دیا۔ کوئی ہند و خطرہ یا غیر ہند و خطرہ کے خلاف مجاہد بن گیا۔ کوئی مسلمانوں کی سیاسی مغلوبیت پر بے برداشت ہو کر تحریک چلانے لگا، وغیرہ۔ جب کہ داعی وہ ہے جو ابدی حقائق کی دریافت سے ابھرے، نہ کہ وقتی مسائل کے ہنگاموں سے۔

دعوت کے مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ دعوت کے دو مختلف اسلوب ہیں — مقلدانہ اسلوب اور مجتہدانہ اسلوب۔ اس وقت دنیا کے مختلف حصوں میں جو دعوتی کوششیں ہو رہی ہیں وہ سب کی سب مقلدانہ اسلوب پر ہو رہی ہیں۔ اس قسم کے اسلوب سے صرف تقلیدی مزاج کے لوگ ہی متاثر ہو سکتے ہیں اور وہی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ جدید طبقہ مجتہدانہ اسلوب چاہتا ہے مگر مجتہدانہ اسلوب میں دعوتی کام سرے سے نہیں ہو رہا ہے اس لیے جدید طبقہ اسلام کی طرف مائل بھی نہیں ہو رہا ہے۔ اس بنا پر اسلامی دعوت اور جدید طبقہ کے درمیان ایک قسم کا ذہنی بُعد (intellectual gap) پیدا ہو گیا ہے۔ دعوتی عمل کو تعلیم یافتہ طبقہ کے درمیان موثر بنانے کے لیے اس بُعد کو ختم کرنا ضروری ہے۔

پچھلے دنوں میری ملاقات بہار کے ایک صاحب ڈاکٹر اکرام الحق سے ہوئی۔ وہ ایم ڈی کی ڈگری لیے ہوئے تھے۔ انہیں اسلامیات کے مطالعہ کا شوق ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے انگریزی اور اردو کی تقریباً تمام تفسیریں پڑھی ہیں مگر مجھے ان تفسیروں سے اطمینان نہیں ہوا۔ اس قسم کا احساس موجودہ زمانہ کے اکثر اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں میں ہوتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تفسیریں زیادہ تر تقلیدی اسلوب میں لکھی گئی ہیں۔ میرے علم کے مطابق، حقیقی معنوں میں مجتہدانہ اسلوب میں کوئی تفسیر ابھی تک لکھی نہیں گئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2003 All issues

Printed page