ایک ملاقات
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۶۴
میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ قرآن کی ایک آیت ہے: كلما اوقدوا ناراً للحرب اطفأها الله (المائدہ ۶۴) اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ جدید امن پسند طبقہ کے لیے بے حد پر کشش ہے مگر کسی بھی عربی یا اردو یا انگریزی تفسیر میں اس کی معنویت کو کھولا نہیں گیا ہے۔ عام طور پر اس آیت میں قدیم یہود کے معاملہ کو بتایا جاتا ہے۔ گویا کہ تمام مفسرین اس آیت کو زمانی مفہوم میں لے رہے ہیں۔ اس طرح یہ آیت بظاہر قدیم زمانہ کی ایک گزری ہوئی داستان بن کر رہ گئی ہے۔ نتیجہ خود قرآن بھی غیر جانبدار قاری کو زمانہ ماضی کا ایک قصہ معلوم ہوتا ہے جس میں آج کے لیے کوئی رہنمائی موجود نہ ہو۔ قرآن کو سمجھنے کے لیے ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ اس میں جو بات قدیم ریفرنس میں کہی گئی ہو اس کو آج کا ایک مفسر جدید حوالہ (modern context) میں دیکھ سکے، وہ اس آیت کا نیا انطباق (reapplication) دریافت کر سکے۔ اس اعتبار سے غور کیجئے تو قرآن کی مذکورہ آیت میں ایک ابدی اصول بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اہل اسلام کی پالیسی یہ ہونا چاہئے کہ دوسرے لوگ جنگ چھیڑیں تو وہ حسن تدبیر سے اس کو اوائڈ کرنے کی کوشش کریں، نہ کہ خود بھی جنگ میں الجھ جائیں: Muslims must adopt the policy of avoiding war rather than of indulging in war. موجودہ زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ مسلم اور نو مسلم دونوں کے درمیان کمیونٹی کاز (community cause) کی دھوم ہے۔ مگر ان میں سے کوئی بھی حقیقی معنوں میں ڈوائن کاز (divine cause) کے لیے تڑپنے والا ، اس کے لیے کام کرنے والا نظر نہیں آتا۔ حتیٰ کہ ہزاروں کتابیں ہر جگہ چھپ رہی ہیں مگر میرے علم کے مطابق ، کوئی بھی کتاب انسانیت عامہ کو موثر انداز میں خطاب کرنے والی نہیں۔
موجودہ زمانہ کا سب سے زیادہ اندوہناک واقعہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں دعوت الی اللہ کا عمل سرے سے وجود ہی میں نہ آسکا۔ کچھ مسلمان یا مسلم جماعتیں بظاہر دعوت کے نام پر سرگرم ہیں مگر یقینی طور پر وہ دعوت الی اللہ کا عمل نہیں ۔ یہ لوگ اصلاً کوئی اور کام کر رہے ہیں جس کا دعوت الی اللہ سے کوئی
‹ Previous page Next page › Contents of September 2003 All issues