Don't preach, just teach.
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳
۵۔ دہلی کے ہفتہ وار ہندی اخبار’’راشٹریہ وشواس‘‘کے نمائندہ مسٹر بابولال شرما نے ۲۱ جون ۲۰۰۲ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق ملک اور ملت دونوں قسم کے مسائل سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ یہ صحیح ہے کہ موجودہ زمانہ میں مختلف مقامات پر جہاد کے نام پر جو متشددانہ تحریکیں چل رہی ہیں ان سے اسلام کی تصویر خراب ہو رہی ہے۔ مگر اس کا سبب اسلام کی تعلیمات نہیں ہیں۔ اسلام مکمل طور پر امن اور انسانیت کا مذہب ہے۔ مسلمان اپنی قومی تحریکوں کو اسلامی جہاد کے نام پر چلاتے ہیں، اس لیے اس کی وجہ سے اسلام بدنام ہو رہا ہے۔ اگر وہ سری لنکا جیسے لوگوں کی طرح اپنی تحریک کو قومی بنیاد پر چلائیں تو ان کی تحریک کا خواہ جو بھی نتیجہ ہو مگر اس کی وجہ سے اسلام بدنام نہیں ہوگا۔ کیوں کہ ایسی حالت میں ان کی تحریک کی رپورٹنگ پریس میں مسلم قوم کے حوالہ سے آئے گی، نہ کہ مذہب اسلام کے حوالہ سے۔ ۶۔ ۲ جولائی ۲۰۰۲ کو نئی دہلی کے اینا ڈوٹی وی (EENADU TV) نے صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس کا موضوع تھا: اسلام اور تعلیم۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام تعلیم کو بے حد اہمیت دیتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا سبب اسلام نہیں ہے۔ اُس کے اسباب زیادہ تر سیاسی ہیں۔
۷۔ برطانیہ کے دو اسکالر کرس فلپاٹ (Chris Philpolt) اور فرزر گرانٹ(Frser Grant) ۱۰ جولائی ۲۰۰۲ کو صدر اسلامی مرکز سے ملے۔ انہوں نے اپنی ایک زیر تصنیف کتاب کے لئے تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ان کی کتاب کا ٹائٹل اور موضوع یہ ہے:
Millennium Choices; Global Environmental Problems, Spiritual Traditions, a rediscovery of Green Spirituality. ان کے سوالات کا تعلق زیادہ تر ماحولیات اور روحانیات کے بارے میں تھا۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ ان دونوں موضوعات پر اسلام کا نقطۂ نظر کیا ہے۔ نیز ان کا سوال یہ تھا کہ موجودہ ماحولیاتی مسائل کے بارے میں اسلام کیا رہنمائی دیتا ہے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں ان کے سوالات کے جوابات دئے گئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues