Don't preach, just teach.
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳، صفحہ ۴۱
مائنارٹیز کمیشن کے زیراہتمام ۱۴ جولائی ۲۰۰۲ کو نئی دہلی میں ایک سیمینار ہوا۔ اس میں ہر مذہب کے نمائندے شریک ہوئے ۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ ہمارے مسائل کا حل رواداری اور مفاہمت کے اصول پر ہی نکل سکتا ہے۔ ٹکراؤ کا طریقہ کسی کے لیے بھی مفید نہیں۔
۹۔ بی بی سی لندن (انگریزی پروگرام) کے تحت ۱۴ جولائی ۲۰۰۲ کو ایک انٹرویور ہوا۔ انٹرویو مسٹر نابلینک (Noblank) لندن کے بُش ہاؤس سے بول رہے تھے اور نئی دہلی کے بی بی سی آفس سے صدر اسلامی مرکز اُن کے سوالات کے جوابات دے رہے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ بائیکاٹ کی پالیسی کوئی پالیسی نہیں۔ بلکہ دونوں گروہوں کے درمیان سنجیدہ ڈائیلاگ ہونا چاہئے ۔
۱۰۔ جین ٹی وی (نئی دہلی) میں ۱۶ جولائی ۲۰۰۲ کو ایک پینل ڈسکشن ہوا۔ اس کا موضوع تھا کہ ہندوستان کے ہندو اور مسلمان مل جل کر کس طرح امن کے ساتھ رہیں ۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور اس موضوع پر اپنے خیالات پیش کیے۔ ۱۱۔ جامعہ ہمدرد (نئی دہلی) کے کنونشن سنٹر میں ۲۱ جولائی ۲۰۰۲ کو حکیم عبدالحمید مرحوم، بانی جامعہ کی یوم وفات کے موقع پر ایک اسلامک کوئز کمپیٹیشن کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور تقسیم انعامات کے علاوہ ایک تقریر کی۔ تقریر میں انہوں نے طلباء اور طالبات کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکیم صاحب اور جامعہ ہمدرد میں آپ کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ یہ جگہ جہاں آج ہمدرد یونیورسٹی ہے، یہاں ۱۹۴۷ میں صرف جنگل تھا۔ انہوں نے شیکسپیئر اور برنارڈ شا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ شیکسپیئر کی موت اور برنارڈ شا کی وفات میں تقریباً ڈھائی سوسال کا فاصلہ ہے۔ اس واقعہ کو لے کر برنارڈ شا نے کہا تھا کہ میرا قد شیکسپیئر سے چھوٹا ہے مگرمیں شیکسپئر کے کندھوں کے اوپر کھڑا ہوں :
I am smaller in stature than shakespeare, but I stand upon his shoulders.
‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues