Follow one and respect all.
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۳
۲۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جو غلط فہمیاں موجود ہیں ان کی ذمہ داری ہندو اور مسلمان دونوں طرف کے رہنماؤں کے اوپر یکساں طور پر عائد ہوتی ہے۔ مختلف اسباب کے تحت دونوں طرف کے رہنماؤں نے اپنے اپنے عوام کو وہ ذہن دیا جس کو شناخت (identity) کہا جاتا ہے۔ دونوں ہی نے اپنے قومی وجود کے لیے شناخت کو اہم ترین مسئلہ قرار دیا۔ اس کو پختہ کرنے کے لیے ہندو رہنماؤں نے یہ نظریہ بنایا کہ مسلمان ملچھ ہیں اور مسلم رہنماؤں نے یہ نظریہ وضع کیا کہ ہندو کافر ہیں۔ میرے نزدیک یہ دونوں نظریے یکساں طور پر غلط ہیں۔ ہندو کو دل سے یہ ماننا چاہئے کہ مسلمان افہمی‘‘ کی طرح انسان ہیں۔ اسی طرح مسلمانوں کو دل سے یہ ماننا چاہئے کہ ہندو افہمی کی طرح انسان ہیں۔ جب تک سوچ میں یہ تبدیلی نہ آئے ہماری سماجی زندگی میں معتدل تعلقات کا ماحول قائم فہمیں ہو سکتا۔ اس معاملے کا ایک اور پہلو ہے، اور اس کا تعلق زیادہ تر مسلمانوں سے ہے۔ مسلمان اپنے عقیدہ کی رو سے داعی ہیں اور ہندوان کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ داعی۔ مدعو کے اس رشتہ کا تقاضہ ہے کہ مسلمان یک طرفہ طور پر یہ ذمہ داری لیں کہ انہیں شرعی حکم کے مطابق، تالیف قلب کے اصول پر عمل کرنا ہے۔ انہیں یہ کرنا چاہئے کہ وہ ہندوؤں کی شکایتوں کو یک طرفہ طور پر اپنے آپ پر لے لیں تاکہ دونوں فرقوں کے درمیان وہ معتدل ماحول قائم ہو جو دعوتی عمل کے لیے ضروری ہے۔ یہاں میں یہ اضافہ کروں گا کہ ہندوؤں کی کئی شکایتیں جن کو مسلمان ''غلط نہی قرار دیتے ہیں اور غلط نہی دور کرنے کے نام پر ایک غیر مؤثر مہم لمبی مدت سے چلا رہے ہیں۔ اس کو انہیں مکمل طور پر ترک کر دینا چاہئے۔ کیوں کہ جو معاملہ ہندوؤں کے نزدیک صحیح فہمی کاہو اس کا خاتمہ اس طرح نہیں ہو سکتا کہ ہم اس کو غلط نہی کہہ کر نظر انداز کر دیں۔ مثال کے طور پر مسلم بادشاہوں کی کئی کارروائیوں پر ہندوؤں کو بجا طور پر شکایت ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ کھلے طور پر ان کارروائیوں کی مذمت کریں۔ وہ کھلے طور پر یہ کہیں کہ ہندوستان کی مسلم حکومتیں خاندانی حکومتیں تھیں نہ کہ اسلامی حکومتیں ۔ اس کے سوا کسی اور طریقہ سے اس معاملہ کا خاتمہ ممکن نہیں۔
۳۔ اقلیت و اکثریت کے تعلقات کو کس طرح بہتر بنایا جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 2003 All issues