Follow one and respect all.
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۳
سہ ماہی السلام (نئی دہلی) کے سوال نامہ ۱۲ جون ۲۰۰۳ کا جواب ۱۔ مختلف مذہبوں اور تہذیبوں کے سماج میں ہم آہنگی کیسے لائی جائے۔ اس کا ایک فارمولا یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اس قسم کے اختلافات کو بلڈوز کر کے پورے سماج کو ایک مذہب اور ایک کلچر کا سماج بنایا جائے۔ مگر یہ کوئی فارمولا نہیں۔ کیوں کہ ایسا ہونا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ فطرت کا نظام جو خالق نے بنایا ہے وہ یکسانیت کے اصول پر نہیں بنایا بلکہ تعدد اور تنوع کے اصول پر بنایا ہے۔ یہی تعدد اور تنوع مذہبی اور تہذیبی دنیا میں بھی موجود ہے۔ یہ خالق کے تخلیقی نقشہ کا ایک حصہ ہے اور جو چیز خود خالق کے تخلیقی نقشہ کا حصہ ہو اس کو مٹانا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں انسانی دنیا میں مذہبی یکسانیت یا کلچرل یکسانیت کی بات کرنا اتنا ہی بے معنی ہے جتنا کہ مادی دنیا کے تنوع کو ختم کر کے یکساں مادی نظام قائم کرنے کا منصوبہ بنانا۔
اس سلسلہ میں دوسرا فارمولا یہ پیش کیا جاتا ہے کہ تمام مذہبوں یکساں ہیں۔ اس نظریہ کے حامی، لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مختلف مذاہب میں کوئی اختلاف ہی نہیں۔ اس لئے لوگوں کو چاہئے کہ وہ فرق اور اختلاف کے ذہن کو ختم کردیں، اس طرح اپنے آپ اتحاد قائم ہو جائے گا۔ یہ بات بھی سراسر بے معنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مختلف مذاہب اور مختلف تہذیبوں میں فرق اور اختلاف اتنا زیادہ حتمی صورت میں موجود ہے کہ کسی بھی دلیل سے اس کو غیر موجود ثابت کرنا ممکن نہیں۔ یہ فارمولا یقینی طور پر ایک غیر حقیقی فارمولا ہے۔ وہ عملی طور پر نہ کبھی ممکن ہوا اور نہ آئندہ وہ کبھی ممکن ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ فرق کوئی عیب نہیں، بلکہ وہ ایک خوبی ہے۔ وہ مذہبی فکر میں ارتقاء کا ذریعہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں صرف ایک ہی فارمولا ہے جو مفید اور قابلِ عمل ہے، اور وہ فارمولا وہ ہے جورواداری (tolerance) کے اصول پر مبنی ہے۔ اس اصول کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک کی پیروی کرو اور سب کا احترام کرو:
Follow one and respect all.
‹ Previous page Next page › Contents of September 2003 All issues