Al-Risala · September 2003 · page

Follow one and respect all.

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۳

جاتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں اس میں توسیع ہوئی تو یہ سمجھا جانے لگا کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے جاب پارٹنر ہیں۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ شادی شدہ زندگی کی ایک تصغیر ہے کہ اس کو ہاؤس پارٹنر یا جاب پارٹنر کے دائرہ میں محدود کر دیا جائے۔

میں سمجھتا ہوں کہ شادی شدہ زندگی کا زیادہ بڑا پہلو یہ ہے کہ اس طرح عورت اور مرد دونوں کو اپنے لیے ایک قابلِ اعتماد انٹلیکچول پارٹنر مل جاتا ہے، ایک ایسا ساتھی جس کے ذریعہ وہ اپنے ذہنی ارتقاء کا سامان کر سکیں۔

کسی انسان کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ اس کے اندر ذہنی ارتقاء کا عمل مسلسل جاری رہے ۔ یہ ذہنی ارتقاء مطالعہ اور مشاہدہ اور تجربہ کے ذریعہ بھی جاری رہتا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ آدمی کے ذہن میں جو بات آئے اُس پر تبادلۂ خیال کرنے کے لیے اُس کے پاس ایک قریبی معاون موجود ہو۔ اُس پر وہ اس سے ڈسکشن کرے ۔ ڈسکشن کے دوران غیر واضح افکار واضح ہوتے ہیں۔ اُس سے ذہنی سفر کو آگے بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ ڈسکشن کے دوران نئے افکار ایمرج کرتے ہیں جوکسی اور طریقہ سے ممکن نہیں ہوتے۔

اس تبادلۂ خیال کے لیے عورت اور مرد دونوں کو ایسا ساتھی چاہیے جو مسلسل طور پر انہیں حاصل رہے۔ جس سے اعتماد کے ساتھ گفتگو کی جاسکتی ہو۔ جس سے رزرویشن کے بغیر ڈسکشن ہو سکے۔ اس قسم کاساتھی صرف شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے لیے ہو سکتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی انسان کی سب سے بڑی منزل ذہنی ارتقاء ہے، اس ذہنی ارتقاء کے لیے بیوی اور شوہر دونوں ایک دوسرے کے لیے بہترین انٹیلکچول پارٹنر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس طرح دونوں کے اندر تھنکنگ پر اس س بلا روک جاری رہے گا، اور بلاشبہہ کسی مرد یا عورت کے لیے اس سے بڑی کوئی نعمت نہیں کہ اس کا تھنکنگ پراسس کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔ عزیزہ شاذان کو اُن کی زندگی کا یہ نیا دور مبارک ہو۔

یکم جولائی ۲۰۰۳ دعاگو وحید الدین

‹ Previous page Next page › Contents of September 2003 All issues

Printed page