Al-Risala · September 2003 · page

Follow one and respect all.

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۳

میں ایک یہی خواہ کی حیثیت سے کشمیر کے مسئلہ پرصرف اس کے آغاز ہی سے غور کرتا رہا ہوں۔ ١٩٦٨ سے میں نے اس موضوع پر لکھنا شروع کیا اور اردو اور ہندی اور انگریزی پریس میں بار بار لکھتا رہا ہوں۔ اس مسئلہ کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیتے ہوئے میری قطعی رائے ہے کہ کشمیر کے بارے میں پاکستان کے لئے صرف دو ممکن انتخاب (options) پیس۔ ایک یہ کہ اس معاملہ میں پاکستان ڈی لنکنگ پالیسی (delinking policy) اختیار کرے۔ یعنی کشمیر کے اشو کو پر امن گفت و شنید کے خانہ میں ڈالتے ہوئے بقیہ تمام امور میں ہندوستان سے نارمل تعلقات قائم کرلے۔ اور دوسرے یہ کہ جموں وکشمیر میں جغرافی اعتبار سے جو اسٹیٹس کو (statusquo) بن گیا ہے اس کو مستقل سرحد کے طور پر مان کر اس مسئلہ کو ہمیشہ کے لئے ختم کردے۔ اس کے سوا کوئی تیسرا انتخاب عملی طور پر ممکن نہیں۔ تیسری صورت یقینی طور پر تباہی کی صورت ہے، نہ کہ ترقی اور کامیابی کی صورت۔

اس معاملہ کا ایک اور نہایت اہم پہلو ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں مختلف مقامات پر جہاد کے نام سے ملیٹینسی (militancy) چلائی جارہی ہے، ان میں سے ایک نمایاں نام کشمیر کا ہے۔ اس ملیٹینسی کا فائدہ تو کچھ نہیں ہوا۔ البتہ اس کا ایک عظیم نقصان یہ ہوا کہ اسلام کی امیج ایک وائلنٹ مذہب (violent religion) کی ہوگئی۔ اس بدنامی نے موجودہ زمانہ میں اسلام کے آئیڈیالا جیکل مارچ (ideological march) کو روک دیا جو ایک ہزار سال سے مسلسل ساری دنیا میں چلا آرہا تھا۔

مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ نے آپ کے لئے یہ رول مقدر کیا ہے کہ آپ اسلام کے اس دعوتی سفر کو دوبارہ جاری کریں۔ اگر آپ انڈیا کے ساتھ مستقل قسم کا ایک ہیں ٹریٹی (peace treaty) کر لیں تو اس کا فائدہ نہ صرف پاکستان کو ملے گا بلکہ اس کے نتیجہ میں پوری مسلم دنیا میں ایک نیا صحت مند پراسس جاری ہو جائے گا۔ اس کے بعد یہ ہو گا کہ موجودہ متشددانہ رجحان ایک پرامن دعوتی رجحان میں بدل جائے گا۔ لوگ نارمل فضا میں اسلام کا مطالعہ کرنے لگیں گے۔

موجودہ مبصرین پاکستان کو امکانی طور پر نیوکلیئر فلیش پوائنٹ (nuclear flashpoint) کے

‹ Previous page Next page › Contents of September 2003 All issues

Printed page