Follow one and respect all.
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۳
سہارا ٹی وی (نئی دہلی) میں ۱۸ اپریل ۲۰۰۳ کو ایک پینل ڈسکشن تھا۔ اس میں دہلی کے ۱۲ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ ونود دوا اس کے اینکر تھے۔ موضوع یہ تھا کہ بحران کے وقت کیوں ایسا ہوتا ہے کہ لوگ لوٹ پاٹ شروع کر دیتے ہیں۔ یہ واقعہ نیویارک، لاس اینجیلس، گجرات، بغداد، دہلی، وغیرہ میں بڑے پیمانہ پر پیش آیا ہے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ انہوں نے اس موقع پر جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ انسان کی اناوالی نفسیات کا نتیجہ ہوتا ہے۔ لوگ اس بنا پر اتھارٹی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ وہ پہلا موقع پاتے ہی بغاوت کردیتے ہیں۔ اس کا علاج دو چیز ہے۔ اچھا ایڈمنسٹریشن اور اچھی ایجوکیشن۔ ای۔ ٹی۔ وی (نئی دہلی) میں ۲۳ اپریل ۲۰۰۳ کو ایک پینل ڈسکشن ہوا۔ اس کا موضوع تھا امن، انسانیت اور توہم پرستی کے بارہ میں مذہب کی تعلیمات۔ اُس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اُس میں شرکت کی اور اس موضوع پر اسلام کی روشنی میں کلام کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام امن اور انسانیت کا مذہب ہے۔ جہاں تک توہم پرستی کا تعلق ہے، اسلام میں اس کی گنجائش نہیں۔ اسلام کے مطابق، موثر حقیقی صرف خدا ہے۔ نفع کا ملنا یا نقصان کا پہنچنا دونوں صرف خدا کے اختیار سے ہوتا ہے۔ خدا کے سوا کسی اور کو نافع یا ضار سمجھنا اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔
سائی انٹرنیشنل سینٹر (نئی دہلی) میں ۲۷ اپریل ۲۰۰۳ کی شام کو تو سیعی لکچر کا ایک پروگرام تھا۔ اس میں دہلی کی خاتون چیف منسٹر مسز شیلا دکشت چیف گیسٹ تھیں اور صدر اسلامی مرکز اُس کے واحد اسپیکر تھے۔ وسیع ہال پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ اس میں تقریر کا عنوان یہ تھا: Spirituality and Spiritual Power تقریر میں تفصیل سے بتایا گیا کہ اسپر پچوٹی ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے۔ اسپرچولٹی آدمی کو ذہنی سکون دیتی ہے۔ اسی کے ساتھ وہ ایک عظیم طاقت ہے۔ یہ پروگرام انگریزی میں تھا اور اُس
‹ Previous page Next page › Contents of September 2003 All issues