Follow one and respect all.
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۳
میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوئے ۔ سامعین بہت زیادہ متاثر ہوئے ۔ چیف گیسٹ مسز شیلادکشت نے آخر میں کہا کہ میں بولنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں ۔ مولا نا صاحب کی تقریر نے ہم لوگوں کو اتنا زیادہ مسحور کر دیا ہے کہ ہمارے پاسی اب بولنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ جین ٹی وی میں ۲ مئی ۲۰۰۳ کو ایک پروگرام تھا۔ اس میں صدر اسلامی مرکز کی تقریر ریکارڈ کی گئی ۔ اس کا موضوع تھا : پیغمبر اسلام کی سیرت اور تعلیم ۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں موضوع کی وضاحت کی گئی ۔
ہندی ہفت روزہ پَروکتا کے نمائندہ مسٹر راجیو شرما .Tel) نے ۴ مئی ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا ۔ کشمیر کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ ۱۹۶۸ سے جو بات کہتے رہے ہیں وہ اب بعد از خرابی بسیار پاکستانی لیڈروں کی سمجھ میں آئی ہے۔ وہ یہ کہتے رہے ہیں کہ اس معاملہ میں ڈی لنکنگ (delinking) پالیسی اختیار کی جائے ۔ یعنی کشمیر کے سوال کو الگ رکھ کر اس کو شملہ ایگریمنٹ کے تحت پر امن گفت و شنید کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کی جائے اور اس کے ساتھ تجارت، سیاحت اور اس طرح کے دوسرے معاملات میں دونوں ملکوں کے درمیان نارمل تعلق قائم کر لیا جائے ۔ اب پاکستانی لیڈ راس پر راضی ہو گئے ہیں ۔ امید ہے کہ جلد ہی اس پر عمل ہوگا اور دھیرے دھیرے انشاء اللہ کشمیر کا جھگڑا ختم ہو جائے گا۔
اسٹار نیوز (نئی دہلی) کی اسپیشل کرسپانڈنٹ آپر نا دویدی (Aparna Dwivedi) نے ۵ مئی ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا ۔ اُن کے سوالات کا تعلق زیادہ تر مدرسہ کے ماڈرنائزیشن سے تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ مدرسہ میں بلاشبہ بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے ۔ مگر اُس کو ماڈرنائزیشن کہنا درست نہیں ۔ مثلاً مدرسہ میں ضرورت ہے کہ قدیم منطق کی جگہ جدید منطق پڑھائی جائے ۔ عربی زبان کے ساتھ انگریزی زبان کو با قاعدہ طور پر داخل نصاب کیا جائے ۔ کمپیوٹر کی تعلیم دی جائے ۔ نئے طریقہ سے کام کرنے کی تربیت دی جائے۔ ایک سوال
‹ Previous page Next page › Contents of September 2003 All issues