Al-Risala · September 2003 · page 43

The Basics of Islam

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۴۳

کوئی شرعی فریضہ نہیں ۔ یہ مسلم کلچر کا ایک حصہ ہے جو بعد کے زمانہ میں شروع ہوا۔ تاہم اس کا ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ میلاد النبی کے موقع پر مسلمان بڑی تعداد میں اکٹھا ہوتے ہیں اور علماء کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اس موقع پر لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے حوالہ سے اسلام کا پیغام پہنچائیں۔

۱۵ ہندی ماہنامہ سروشانتی (نئی دہلی) کے ایڈیٹر مسٹر اعجاز شاہین نے ۲۸ مئی ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر موجودہ سماج میں عورتوں کے مسائل سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ موجودہ سماج میں عورتوں کو جو مسائل درپیش ہیں وہ زیادہ تر مساوات مردوزن کے غیر فطری اصول کی بنا پر ہیں۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ عورت اور مرد کا دائرہ کار الگ الگ ہو۔ دوسری بات یہ کہ آزادی نسواں کے نام پر برہنگی کا جو کلچر چلایا گیا ہے اس کو بند ہونا چاہئے ورنہ عورتوں کے مسائل کبھی ختم نہ ہوں گے۔

۱۶ ۳۱ مئی ۲۰۰۳ کی رات کو ایک خصوصی پروگرام ہوا۔ سویڈن کی راجدھانی اسٹاک ہام میں مقیم جناب رشید شمس الحسن زیدی اور ان کے ساتھیوں کے تعاون سے ٹیلی فون پر خطاب کا یہ پروگرام رکھا گیا۔ یہ پروگرام اسٹاک ہام کے ایک ہال میں تھا۔ صدر اسلامی مرکز نے دہلی میں اپنے دفتر سے ساڑھے بارہ بجے رات کو ٹیلی فون پر آدھ گھنٹہ کی تقریر کی جس کو پانچ ہزار کلومیٹر دور اسٹاک ہام کے مسلمانوں نے سنا۔ یہ تقریر سیرت رسول کے موضوع پر تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور واقعات کی روشنی میں اسلامی تعلیمات کی وضاحت کی گئی ۔ رپورٹ کے مطابق ہال میں جمع شدہ حاضرین بہت متاثر ہوئے۔ بہت سے لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ ان لوگوں کی فرمائش ہے کہ اس تقریر کو لکھ کر انہیں دیا جائے تاکہ وہ اسے سویڈش زبان میں چھاپ سکیں۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ اہل اسلام کے لیے قابل اتباع نمونہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہے۔

۱۷ نئی دہلی میں انڈیا انٹرنیشنل سنٹر (انکسی) میں انٹرنیشنل فیڈریشن فار ورلڈ پیس کے تحت ۵ جون

‹ Previous page Next page › Contents of September 2003 All issues

Printed page