Al-Risala · October 2003 · page

005 ـــ علم کا حصول

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۳

آتی۔ علم ایک ایسا اتھاہ سمندر ہے جو ہر طالب کی پیاس بجھاتا ہے۔ مگر اس کا اپنا ذخیرہ اس کے بعد بھی اتنا ہی زیادہ باقی رہتا ہے جتنا کہ وہ اس سے پہلے تھا۔

005 ـــ علم کا حصول

پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ علم حاصل کرو، خواہ وہ چین میں ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علم کے حصول میں کسی بھی قسم کے تعصب یا کسی بھی قسم کے عذر کور کاوٹ نہیں بننا چاہئے۔

قدیم زمانہ میں چین کا سفر ایک مشکل سفر سمجھا جاتا تھا۔ اس لئے یہ کہنا کہ علم حاصل کرو خواہ وہ چین میں ہو، یہ معنی رکھتا ہے کہ ہر مشکل کو برداشت کر کے علم سیکھو۔ کسی بھی چیز کو اس معاملہ میں رکاوٹ نہ سمجھو۔ علم کے بغیر انسان گویا خام لوہا (ore) ہے۔ یہ علم ہے جو انسان کو اسٹیل بناتا ہے۔ زندگی کے سادہ پہلو کو آدمی علم کے بغیر بھی سمجھ سکتا ہے۔ لیکن زندگی کی گہرائیوں تک پہنچنا علم کے بغیر ممکن نہیں۔ اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ علم کے لیے سفر کرنا ضروری ہے۔ سفر کے بغیر علم میں کوئی بڑا اضافہ نہیں ہوسکتا۔ سفر آدمی کے ذہنی افق کو بڑھاتا ہے۔ سفر آدمی کو مقامی علم سے اٹھا کر عالمی علم تک پہنچا دیتا ہے۔

006 ـــ علم کا تحفہ

پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ کوئی باپ اپنی اولاد کو اس سے اچھا تحفہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کو تعلیم دے۔ دوسرا کوئی بھی تحفہ ہمیشہ وقتی ہوتا ہے مگر علم کا تحفہ ایک ایسی چیز ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ ہر آدمی کا پہلا مدرسہ اس کا اپنا گھر ہے۔ اس مدرسہ کے ٹیچر خود بچے کے ماں باپ ہوتے ہیں۔ اس حدیث سے بیک وقت دو باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ ماں باپ کو سب سے پہلے خود صاحب علم ہونا چاہئے کیوں کہ ماں اور باپ اگر صاحب علم نہ ہوں تو وہ نہ علم کی اہمیت کو سمجھیں گے اور نہ اپنی اولاد کو تعلیم دینے میں صحیح طور پر اپنا حصہ ادا کر سکیں گے۔ دوسری بات یہ کہ گھر کسی بچے کے لیے صرف پرورش کا مقام نہیں ہے بلکہ وہ اس کی تعلیم و تربیت کا مقام بھی ہے۔ ہر گھر کو تعلیم و تربیت کا ایک ادارہ ہونا چاہئے۔ اس کے بغیر وہ گھر ایک ادھورا گھر ہے نہ کہ مکمل معنوں میں گھر۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2003 All issues

Printed page