007 ـ علم کی برتری
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۳
007 ـ علم کی برتری
پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ شہید کے خون کے مقابلہ میں عالم کے قلم کی روشنائی زیادہ افضل رہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ علم کی عظمت تمام دوسری چیزوں سے زیادہ ہے۔
اس کا سبب یہ ہے کہ علم کا تعلق ذہن سے ہے۔ علم سے ذہن کو تندرستی ملتی ہے، ذہنی سوچ میں اضافہ ہوتا ہے، علم سے یہ ممکن ہوتا ہے کہ ذہن معاملات کو زیادہ بہتر طور پر سمجھے اور زیادہ بہتر طور پر عمل کی منصوبہ بندی کرنے کے قابل ہو جائے۔
کوئی بھی جسمانی عمل ایک محدود عمل ہے۔ ایک مقام تک پہنچ کر جسمانی عمل کی حد آ جاتی ہے مگر علم کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ جس آدمی کو علم حاصل ہو اس کی شخصیت بے پناہ حد تک وسیع ہو جائے گی۔ وہ ہر قید سے باہر آ کر سوچنے کے قابل ہو جائے گا۔ وہ ایک ایسا انسان بن جائے گا جس کو کوئی زیرنہ کرسکے۔ جس طرح علم کی کوئی حد نہیں اسی طرح اس انسان کی بھی کوئی حد نہیں جو علم کی دولت کا مالک ہو جائے۔ 008 ـ علم کا ریکارڈ پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ علم کو کتابت کے ذریعہ محفوظ کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو علم تمہارے ذہن میں ہے اس کو کا غذ پر لکھ لو۔ اس طرح وہ اپنی صحیح شکل میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائے گا۔ اس تعلیم کا ایک استعمال یہ ہے کہ علم کو کتابوں میں منتقل کیا جائے ۔ ہر علمی موضوع پر کتابیں لکھ کر تیار کی جائیں ۔ علم کو دماغ سے نکال کر لائبریری کی صورت میں ذخیرہ کر دیا جائے۔ اس معاملہ کی ایک صورت وہ بھی ہے جس کو ڈائری کہا جاتا ہے۔ اس طرح اس تعلیم کی ایک پیروی یہ بھی ہوگی کہ ہر آدمی اپنی ایک ڈائری رکھے ۔ وہ اپنے روزانہ کے مطالعہ اور تجربہ کو مختصر طور پر اس میں تاریخ وار درج کرتا ہے اس طرح ہر آدمی کے علمی سفر کا ایک روز نامچہ تیار ہوتا رہے گا۔ یہ ڈائری آدمی کے روزانہ ذہنی سفر کا ایک ریکارڈ ہوگی، وہ اپنے احتساب کا ایک مؤثر ذریعہ ہوگی۔ آدمی اپنی ڈائری کے ذریعہ اپنی کامیابی اور نا کامی کو جان کر اپنی اصلاح کرتا رہے گا۔ اس طرح ڈائری اس کی شخصیت کے ارتقاء کا ذریعہ بن جائے گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2003 All issues