Al-Risala · October 2003 · page

009 - علم برائے علم

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۳

009 - علم برائے علم

پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ علم کو گہوارہ مادر سے لے کر قبر تک حاصل کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ علم کسی وقتی نفع یا کسی وقتی جاب کے لیے نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک مستقل عمل ہے جو انسان کی پیدائش سے لے کر اس کی موت تک جاری رہتا ہے۔ لہٰذا علم اپنے آپ میں مطلوب ہے۔ علم کا اصل مقصد انسانی شخصیت کی تعمیر ہے۔ یہ کوئی وقتی کام نہیں۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ وہ ہر حال میں اور ہر مقام پر جاری رہتا ہے۔ انسانی شخصیت کی تعمیر کبھی مکمل نہیں ہوتی۔ اس لئے اس کی تعلیم و تربیت کا عمل بھی کبھی ختم نہیں ہوتا۔ علم یا تعلیم کا اصل مقصد شعور کو بیدار کرنا ہے تا کہ وہ ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو سمجھے۔ وہ کبھی محدود سوچ میں مبتلا نہ ہو۔ اس کا ذہن کبھی جمود کا شکار نہ ہونے پائے۔ علم انسانی شخصیت کی غذا ہے۔ جس طرح جسم مادی غذا کے بغیر ناکارہ ہو جاتا ہے اسی طرح انسانی شخصیت علم کے بغیر ناقص ہو جاتی ہے۔ اور ناقص شخصیت موجودہ دنیا میں کوئی بڑا کردار ادا نہیں کر سکتی۔ 010 - غیر مفید علم پیغمبر اسلام کی ایک دعا تھی: اللهم إنی اعوذ بك من علم لا ينفع (اے خدا، مجھ کو ایسے علم سے بچا جو بے فائدہ ہو) گویا وہی علم علم ہے جو انسانیت کے لئے مفید ہو، جو علم انسانیت کے لیے مفید نہ ہو وہ کوئی مطلوب علم نہیں۔ ایسے علم کے حصول میں اپنا وقت لگانا جس میں کوئی حقیقی فائدہ نہ ہو، وقت کو ضائع کرنا ہے۔

011 - نمو پذیر شخصیت

قرآن میں سچے انسان کی مثال پودے سے دی گئی ہے۔ جس طرح پودا بڑھ کر درخت بنتا ہے اسی طرح انسان کی شخصیت بھی بڑھتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ شاداب درخت کی طرح وہ ایک ترقی یافتہ شخصیت بن جاتی ہے۔ انسان چھوٹے بچے کی شکل میں پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد بڑھتے بڑھتے وہ پورا آدمی بن جاتا ہے۔ یہ معاملہ جسم کی ترقی کا ہے۔ اسی طرح انسان کا ذہن بھی ترقی کرتا ہے۔ یہ ترقی تفکیری عمل (thinking process) کے ذریعہ جاری ہوتی ہے۔ اگر یہ تفکیری عمل

‹ Previous page Next page › Contents of October 2003 All issues

Printed page