021 - حکمت کی بات
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۳
021 - حکمت کی بات
مشہورصحابی رسول حضرت عمر فاروق نے کہا: اميتوا الباطل بالصمت عنہ (تم باطل کو ہلاک کرو اس کے بارے میں چپ رہ کر)۔ یہ قول خاموشی کی طاقت کو بتاتا ہے۔
مشہور مثل ہے کہ تالی دو ہاتھ سے بجتی ہے۔ اگر آپ باطل کی طاقت کے بعد خود بھی جوابی کارروائی کریں تو باطل کو اس سے مزید طاقت مل جائے گی۔ اس کے برعکس اگر آپ خاموشی کا طریقہ اختیار کریں تو باطل کا زور دھیرے دھیرے اپنے آپ ٹوٹ جائے گا۔ آپ کی طرف سے جوابی کارروائی نہ کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ فطرت کی طاقتیں آپ کی حمایت میں متحرک ہو جائیں گی۔ وہ آپ کے کام کو زیادہ بہتر طور پر انجام دے دیں گی۔
022 - بلند ہمتی
پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ بلند ہمتی ایمان کا ایک حصہ ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ خدا پر ایمان آدمی کو سب سے بڑا بھروسہ دے دیتا ہے۔ یہ بھروسہ اس کو بلند ہمت بنا دیتا ہے۔ مگر دنیا میں بار بار آدمی کو ناموافق حالات سے سابقہ پیش آتا ہے۔ یہ حالات اس کو مایوسی کی طرف لے جاتے ہیں۔ اگر آدمی کو خدا کے اوپر یقین ہو جائے تو وہ آخری حد تک حوصلہ مند بن جائے گا۔ خدا پر یقین اس کو اس وقت بھی بھروسہ دے گا جب کہ بظاہر آدمی کے پاس کوئی بھروسہ نہیں ہوتا۔ 023 - باقی رہنے والا عمل پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والا ہو۔ اس دنیا میں کوئی حقیقی کامیابی ہمیشہ دیر میں ملتی ہے۔ اس لیے سب سے بہتر عمل وہ ہے جو قابل بقا (sustainable) ہو۔ اس دنیا میں نتیجہ خیز عمل وہی ہے جو شروع کرنے کے بعد برابر جاری رہے۔ جس پر آدمی اپنی پوری عمر قائم رہ سکتا ہو۔ ایسا ہی عمل فطرت کے قانون کے مطابق ہے۔ ایسا ہی عمل حقیقی معنوں میں عمل ہے۔
آدمی کو چاہئے کہ وہ عمل شروع کرنے سے پہلے اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔ وہ تمام متعلق
‹ Previous page Next page › Contents of October 2003 All issues