022 - بلند ہمتی
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۳
امور کا جائزہ لے۔ وہ اپنی صلاحیت اور دستیاب وسائل نیز وقت کے حالات، ہر چیز کا بھر پور اندازہ کرے اور پھر سوچے سمجھے نقشہ کے مطابق اپنا کام شروع کرے۔ اور جب وہ کام شروع کردے پھر وہ درمیان میں کبھی اس کو نہ چھوڑے۔ یہی دنیا میں کامیابی کا واحد طریقہ ہے۔ 024 ــ زمانہ سے باخبر ہونا پیغمبر اسلام کی ایک لمبی حدیث ہے۔ اس کا ایک جز ء یہ ہے: عقلمند آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے زمانہ کو جاننے والا ہو۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ انسان کے علم کی تکمیل کیا ہے۔ علم والا ہونے کے لیے یہ کافی نہیں کہ آدمی کتابی معلومات سے واقف ہو۔ اس نے ماضی کی روایتوں کو یاد کر رکھا ہو۔ اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ آدمی جس زمانہ میں ہے اس زمانہ کو جانے۔ وہ ماضی شناس ہونے کے ساتھ حال شناس بھی ہو۔
زمانہ کو جاننے کی اہمیت فکری بھی ہے اور عملی بھی۔ اس کے بغیر آدمی کی سوچ ناقص رہتی ہے۔ وہ باتوں کو آفاقی انداز میں سمجھ نہیں پاتا۔ حقیقت کا گہرا تجزیہ اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ اس طرح عملی اعتبار سے وہ ایک ناقص انسان ہوتا ہے۔ وہ یہ جاننے سے محروم رہتا ہے کہ وقت کے حالات میں ابدی سچائیوں کو کس طرح منطبق (apply) کرے۔ ایسا آدمی اپنے عمل کی کامیاب منصوبہ بندی نہیں کر سکتا۔ 025 ــ با مقصد زندگی پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ آدمی کے اچھے اسلام پر ہونے کی ایک پہچان یہ ہے کہ وہ بے فائدہ باتوں کو چھوڑ دے۔ پیغمبر اسلام کا یہ قول بتاتا ہے کہ ایک بامقصد انسان کی زندگی کیسی ہونی چاہئے۔ اصل یہ ہے کہ دنیا میں کام زیادہ ہیں اور ایک شخص کی عمر بہت مختصر۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ آدمی اپنی مشغولیتوں میں انتخابی (selective) انداز اختیار کرے۔ وہ صرف ان چیزوں میں مشغول ہو جن کا تعلق براہ راست زندگی کے مقصد سے ہو۔ جو چیزیں اس کے مقصد کے لیے کار آمد نہیں ان سے وہ مکمل طور پر پر ہیز کرے۔ وہ بے فائدہ کام اور فائدے والے کام میں فرق کرنا جانے۔ بے فائدہ کام سے مراد وہ کام ہے جو محض دلچسپی یا وقت گزاری کے لیے ہو، جس سے وقتی تفریح
‹ Previous page Next page › Contents of October 2003 All issues