Al-Risala · October 2003 · page

040 - عہد کو پورا کرنا

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۳

موقع نہ ملے۔ اگر آپ کے پاس کے لوگ کسی بات پر آپ سے شکایت کریں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ دوسروں کو تکلیف پہنچارہے ہیں۔ دوسروں کی شکایت ہی پر آپ کو ایسے کام سے رک جانا چاہئے۔ 039 - چھوٹوں سے شفقت بڑوں کا احترام پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ جو شخص ہمارے چھوٹوں کے ساتھ شفقت نہ کرے اور جو شخص ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ شریفانہ اخلاق کیا ہے اور اس کو سماج میں کس طرح قائم کیا جانا چاہئے۔

ہر سماج میں کوئی چھوٹا ہوتا ہے اور کوئی بڑا۔ عمر کے لحاظ سے بھی اور دوسرے لحاظ سے بھی۔ مثلاً اسکول اور کالج میں استاد کی حیثیت بڑے کی ہے اور طالب علم کی حیثیت چھوٹے کی۔ ایسے فرق والے سماج میں کس طرح اعتدال کے ساتھ زندگی گزاری جائے ۔ اس کا سادہ اصول یہ ہے کہ بڑے لوگ چھوٹوں کے ساتھ رحمت اور شفقت کا معاملہ کریں اور چھوٹے لوگ اپنے بڑوں کے ساتھ عزت اور احترام کا طریقہ اختیار کریں۔ جس سماج میں یہ دونوں اصول پائے جائیں اس سماج کے لوگوں میں ہر ایک خوش ہوگا اور ہر ایک دوسرے کے بارے میں اچھے خیالات کا مالک ہوگا۔

040 - عہد کو پورا کرنا

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ جب عہد کرو تو اس کو پورا کرو۔ عہد کے بارے میں خدا کے یہاں تم سے باز پرس کی جائے گی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ عہد کا معاملہ صرف دو انسانوں کے درمیان کا معاملہ نہیں ہے۔ اس معاملہ میں خدا بھی تیسرے فریق کی حیثیت سے شامل ہے۔

عہد یا معاہدہ کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ آدمی کو چاہئے کہ وہ یا تو کسی سے عہد نہ کرے اور جب عہد کرے تو وہ اس کو ضرور پورا کرے۔ عہد نہ کرنا کوئی جرم نہیں مگر عہد کرنے کے بعد اسے پورا نہ کرنا یقینی طور پر جرم ہے۔ حتی کہ ایک معاہدہ کو توڑنا اتنا بڑا جرم ہے کہ وہ تمام انسانی معاہدوں کو توڑنے کے برابر ہے۔ کیوں کہ معاہدہ توڑنے کا ہر واقعہ معاہدہ کے احترام کی روایت کو توڑنا ہے۔ معاہدہ کے احترام پر سماجی انصاف کا پورا نظام قائم ہے۔ اگر معاہدہ کا احترام ختم ہو جائے تو سماج میں انصاف کے ماحول کا خاتمہ ہو جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2003 All issues

Printed page