Al-Risala · October 2003 · page

041 - احسان کا بدلہ

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۳

041 - احسان کا بدلہ

پیغمبر اسلام نے فرمایا: جب کوئی شخص تمہارے ساتھ کوئی بھلائی کرے تو تم اس کا بدلہ دینے کی کوشش کرو۔ اور اگر تم بدلہ نہ دے سکو تو تم اس کے لیے خدا سے دعا کرو۔

یہ شرافت کا تقاضا ہے کہ جب ایک انسان کے ساتھ دوسرا انسان کوئی بھلائی کا معاملہ کرے تو وہ اس کے بدلہ میں خود بھی اس کے ساتھ بھلائی کرے۔ اگر وہ آدمی اپنے حالات کے لحاظ سے اس قابل نہ ہو کہ وہ تلافی کا عمل کر سکے تب بھی اس کے لئے تلافی کا ایک کام موجود ہے۔ وہ یہ کہ وہ اپنے محسن کے حق میں خدا سے بہترین دعائیں کرے۔

042 - دوسرے کی مصیبت پر خوش نہ ہونا

پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ اپنے بھائی کی مصیبت پر خوش نہ ہو۔ ہو سکتا ہے کہ خدا اس پر رحم فرمائے اور تم کو مصیبت میں ڈال دے۔ اس حدیث میں لوگوں کو ایک ایسی اخلاقی برائی سے روکا گیا ہے جو خود اپنی ہلاکت کے ہم معنی ہے۔ کوئی انسان اگر کسی مصیبت میں مبتلا ہو جائے تو اس کو دیکھ کر آپ کے اندر ہمدردی کا جذبہ پیدا ہونا چاہئے۔ آپ کو چاہئے کہ اس کی مدد کریں یا کم سے کم اس کے لئے دعا کریں۔ اس کے برعکس دوسرے کی مصیبت پر خوش ہونا ایک انتہائی پست بات ہے۔ وہ اخلاقی گراوٹ کی بدترین صورت ہے۔

مزید یہ کہ کوئی آدمی اگر دوسرے کی مصیبت پر خوش ہو تو اس کا یہ فعل خدا کو سخت ناپسند ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ خدا ناراض ہو کر یہ فیصلہ کرتا ہے کہ پہلے شخص کی مصیبت کو اس سے لے کر دوسرے شخص کے اوپر ڈال دی جائے۔ یہ بلاشبہ کسی انسان کی بد نصیبی کی سب سے زیادہ بری صورت ہے۔ 043 - اچھا گمان رکھنا پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ حسن ظن بھی حسن عبادت کی ایک صورت ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کے بارے میں اچھا گمان رکھنا اتنا بڑا عمل ہے کہ وہ عبادت کے برابر ہے۔ کسی کے بارے میں اچھا گمان رکھنا ایک مشکل کام ہے۔ آدمی جب کچھ لوگوں کے

‹ Previous page Next page › Contents of October 2003 All issues

Printed page