044 ـــ احسان ماننا
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۳
درمیان رہتا ہے تو بار بار ایسی باتیں پیش آتی ہیں جو بدگمانی پیدا کرنے والی ہیں۔ جس کی وجہ سے دوسرے آدمی کی ایک بری تصویر ذہن میں بن جاتی ہے۔ ایسی حالت میں خوش گمانی کا معاملہ کوئی آسان معاملہ نہیں۔ وہی شخص دوسروں کے بارے میں خوش گمان رہ سکتا ہے جو بدگمانی کے باوجود خوش گمانی پر قائم رہنا جانتا ہو۔ جس کے اندر یہ بلند ظرفی ہو کہ وہ کسی کے بارے میں بری خبریں سنے تب بھی وہ ایسا نہ کرے کہ اس کے خلاف بدگمان ہو کر بیٹھ جائے۔
044 ـــ احسان ماننا
پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ جو شخص انسان کا شکر نہ کرے گا وہ خدا کا شکر بھی نہیں کرے گا۔ احسان کے اعتراف کا نام شکر ہے۔ یہ نفسیات اگر آدمی کے اندر موجود ہو تو اس کا اظہار بندوں کے معاملے میں بھی ہوگا اور خدا کے معاملے میں بھی۔ یہ ناممکن ہے کہ آدمی ایک کے اعتبار سے غیر شاکر ہو اور وہ دوسرے کے اعتبار سے شاکر بن جائے۔
احسان کا اعتراف کرنا ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے۔ اس اعتراف کا نام شکر ہے۔ انسان کے اوپر سب سے بڑا احسان خدا کا ہے۔ اس لئے ہر انسان کو سب سے زیادہ خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ اس شکر کی پہچان یہ ہے کہ آدمی روزمرہ کی زندگی میں خود اپنے جیسے لوگوں کے احسان کا اعتراف کرتا ہو۔ جس آدمی کے اندر یہ اعتراف نہ پایا جائے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ خدا کے احسان کے معاملے میں بھی شکر کرنے والا نہیں۔ ایک اعتبار سے شکر اور دوسرے اعتبار سے ناشکری دونوں ایک دل کے اندر جمع نہیں ہو سکتے۔ آدمی کے اندر یا تو دونوں کے لیے شکر ہوگا یا دونوں کے لیے نہیں ہوگا۔ 045 ـــ غلطی کے بعد نادم ہونا پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ ہر انسان خطا کار ہے اور بہتر خطا کار وہ ہے جو غلطی کر کے نادم ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ اصل غلطی غلطی کرنا نہیں ہے بلکہ اصل غلطی غلطی کر کے اعتراف نہ کرنا ہے۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں آدمی کو ایسے حالات میں زندگی گزارنا ہوتا ہے جس میں بار بار غلطی کرنے کا امکان ہوتا ہے۔ اس لیے صحیح انسان کی اصل پہچان یہ نہیں ہے کہ وہ کبھی غلطی نہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 2003 All issues