048 — امن کلچر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۳، صفحہ ۲۳
048 — امن کلچر
اسلام کی ایک تعلیم یہ ہے کہ جب ایک شخص دوسرے شخص سے ملے تو دونوں ایک دوسرے کو السلام علیکم کہیں ۔ یعنی تمہارے اوپر سلامتی ہو، تمہارے اوپر سلامتی ہو۔ اسلام دراصل امن کلچر ہے اور السلام علیکم کہنا اس امن کلچر کی ایک علامت۔
اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر آدمی کے دل میں دوسرے کے لیے رحمت اور شفقت کے جذبات ہوں۔ ہر آدمی دوسرے آدمی کے لیے پرامن زندگی کی تمنا رکھتا ہو۔ ہر آدمی کی یہ کوشش ہو کہ اس کا سماج امن اور سلامتی کا سماج بن جائے ۔ یہ اسلام کی بنیادی تعلیم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی تمام تعلیمات براہ راست یا بالواسطہ طور پر امن کے اصول پر مبنی ہیں کیوں کہ امن کے بغیر کوئی بھی تعمیری کام نہیں کیا جا سکتا۔ جہاں امن نہ ہو وہاں ترقی بھی نہ ہوگی۔ امن کسی سماج کی ترقی کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ پانی زمین کو زرخیز بنانے کے لیے۔
049 — امن پسندی
پیغمبر اسلام نے اپنی ایک نصیحت میں فرمایا: تم دشمن سے مدبھیڑ کی تمنا نہ کرو بلکہ اللہ سے عافیت مانگو۔ اس حدیث میں زندگی کا ایک بنیادی اصول بتایا گیا ہے۔ اس اصول کی اہمیت فرد کے لیے بھی ہے اور قوم کے لیے بھی۔ کوئی انسان جب اجتماعی زندگی میں رہتا ہے تو ایک اور دوسرے کے درمیان اختلافات پیدا ہوتے ہیں حتیٰ کہ دشمنی کی صورتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ مگر یہ طریقہ درست نہیں کہ کوئی شخص دشمن نظر آئے تو آپ اس سے لڑنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ اس کے بجائے صحیح طریقہ یہ ہے کہ دشمن سے بھی ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے بلکہ امن کے اصول پر چلتے ہوئے اس سے نباہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ پرامن طریقہ ہر حال میں قابلِ عمل ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ آدمی دشمنی کی صورت پیدا ہونے کے بعد منفی نفسیات کا شکار نہ ہو۔
050 — پرامن شہری
پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ مسلم وہ ہے جس کے ہاتھ سے اور جس کی زبان سے لوگ محفوظ رہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2003 All issues