Al-Risala · October 2003 · page

050 — پرامن شہری

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۳

اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کا سچا بندہ وہ ہے جو سماج میں بے تشدد بن کر رہے۔ دوسروں کو نہ اس کی زبان سے کوئی چوٹ پہنچے اور نہ اس کے ہاتھ سے کسی کو تکلیف کا تجربہ ہو۔ یہ انسانیت کا کم سے کم معیار ہے۔ انسانیت کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ مرد اور عورت اپنے سماج میں اس طرح رہیں کہ ایک سے دوسرے کو فائدہ پہنچ رہا ہو۔ اور اگر کوئی شخص دوسروں کو فائدہ نہ پہنچا سکے تو اس کو کم از کم یہ کرنا چاہئے کہ وہ اپنے سماج میں بے مسئلہ انسان بن جائے۔ وہ دوسروں کو اپنے ضرر سے بچائے۔

کوئی آدمی جب اپنی زبان یا اپنے ہاتھ سے دوسروں کو نقصان پہنچانے لگے تو وہ اپنی انسانیت کو کھودیتا ہے۔ وہ انسانیت کی سطح سے گر کر حیوانیت کی سطح پر آ جاتا ہے۔ انسانیت کا سچا معیار یہ ہے کہ آدمی اتنا حساس ہو کہ وہ دوسروں کے لیے ضرر رساں بننے کا تحمّل نہ کر سکے۔

جو آدمی اس معاملہ میں حساس ہو وہ دوسروں کو نقصان پہنچا کر خوش نہیں ہوگا بلکہ یہ سمجھے گا کہ میں نے خود اپنے آپ کو انسانیت کی سطح سے نیچے گرا لیا ہے۔ اگر کبھی اس کی ذات سے کسی کو نقصان پہنچ جائے تو وہ فوراً شرمندہ ہو جائے گا اور نقصان کی تلافی کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس کو اس وقت تک چین نہ آئے گا جب تک کہ وہ اپنے بھائی سے معافی نہ مانگ لے یا اپنی کوتاہی کی تلافی نہ کر لے۔ 051 - نقصان سے بچو پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ اسلام میں نہ نقصان اٹھانا ہے اور نہ نقصان پہنچانا۔ یہ حدیث ایک اہم اجتماعی اصول کو بتاتی ہے۔ اس اصول کا تعلق مرد سے بھی ہے اور عورت سے بھی، فرد سے بھی ہے اور جماعت سے بھی، وہ قومی زندگی کے لیے بھی ہے اور بین اقوامی زندگی کے لیے بھی۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی کو مختلف حالات کے درمیان رہنا پڑتا ہے، کبھی موافق حالات اور کبھی مخالف حالات، کبھی خوشی کے حالات اور کبھی غم کے حالات۔ ایسی حالت میں کوئی مرد یا عورت دنیا میں کیسے رہے، اس کے لیے یہ ایک جامع اصول ہے۔ وہ یہ کہ ہر آدمی ایک طرف اس طرح بے ضرر بن کر رہے کہ اس کی ذات سے کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے اور دوسری طرف وہ اتنا ہوشیار رہے کہ کسی دوسرے کو یہ موقع نہ ملے کہ وہ اس کو نقصان پہنچا سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2003 All issues

Printed page