052 ـ زیادہ بڑی طاقت
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۳، صفحہ ۲۵
052 ـ زیادہ بڑی طاقت
پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ خدا نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔ ان الفاظ میں قدرت کا ایک قانون بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ دنیا کو بنانے والے نے اس کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں نرمی اور عدم تشدد سے کام بنے اور سختی اور تشدد سے کام بگڑ جائے۔ نرمی اور عدم تشدد سے مفید نتیجہ نکلے اور تشدد کا طریقہ بے نتیجہ ہو کر رہ جائے۔
سختی اور تشدد کا طریقہ دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے کافی ہو سکتا ہے مگر وہ کسی تعمیری مقصد کے حصول کے لیے مفید نہیں۔ تعمیر و ترقی کا کام ایک ایسا طریق کار چاہتا ہے جو شروع کرنے کے بعد مسلسل جاری رہے۔ پائیدار عمل کی یہ صفت صرف غیر متشددانہ طریق کار میں پائی جاتی ہے۔ 053 ـ صلح بہتر ہے قرآن کی ایک آیت میں لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ــ صلح بہتر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی نزاعی معاملہ پیش آئے تو اس وقت بہتر یہ ہے کہ لوگ ٹکراؤ کے طریقہ کو اختیار نہ کریں بلکہ مفاہمت کے طریقہ کو اختیار کریں۔ زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک اور دوسرے کے درمیان کوئی نزاع پیش آجاتی ہے۔ ایسی حالت میں لوگوں کے لیے دو ممکن طریقہ ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ ٹکراؤ اور تشدد کے ذریعہ اس کو حل کرنے کی کوشش کی جائے اور دوسرا یہ کہ پر امن گفت و شنید کے ذریعہ آپس میں مصالحت کر لی جائے اور نزاع کو ابتدائی مرحلہ ہی میں ختم کر دیا جائے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مصالحت کا طریقہ ہی دونوں فریقوں کے لیے مفید ہے۔ ٹکراؤ کا طریقہ ہمیشہ الٹا نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ اس میں آپس کی نفرت بڑھتی ہے۔ اور جہاں تک اصل مسئلہ کا تعلق ہے وہ بھی حل نہیں ہوتا۔ اگر لوگ معاملہ کو نتیجہ کے پہلو سے دیکھیں تو وہ کبھی ٹکراؤ کا راستہ اختیار نہ کریں، کیوں کہ ٹکراؤ کا راستہ آدمی کو تباہی کے سوا اور کہیں نہیں پہنچاتا۔
054 ـ سماجی خدمت
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا کے جو سچے بندے ہیں ان کے مال میں سائل اور محروم کا حق ہوتا
‹ Previous page Next page › Contents of October 2003 All issues