Al-Risala · January 2003 · page

Don't preach, just teach.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳

تھا کہ ملک کی ترقی ٹکراؤ کے ذریعہ نہیں ہوسکتی بلکہ رواداری اور میل ملاپ کے ذریعہ ہوسکتی ہے۔ ۲۴۔ یکم اکتوبر ۲۰۰۲ کو راشٹریہ سہارا (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر ودود ساجد نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس مسئلہ سے تھا کہ گودھرا اور گجرات جیسے فسادات کا حل کیا ہے۔ جواب کا خلاصہ یہ تھا کہ اس کا حل یہ ہے کہ ایک طرف سماج کی جانب سے کھلی مذمت اور دوسری طرف حکومت کی جانب سے مجرمین کو مکمل سزا۔ ہمارے ملک میں یہ دونوں کام نہیں ہوئے۔ اخلاقی مذمت جانبدارانہ انداز میں کی جاتی ہے، اسی طرح حکومت کی طرف سے مجرمین کو سزا نہیں ملتی۔ اگر یہ دونوں باتیں ہوں تو فسادات بہت کم وقت میں ختم ہو جائیں۔ ۲۵۔ گاندھی سمیتی کے زیر اہتمام برلا ہاؤس (نئی دہلی) میں ۱۶ اکتوبر ۲۰۰۲ کو ایک سیمینار ہوا۔ اس کا موضوع یہ تھا کہ نوجوانوں میں پیس اور ڈسپلن کس طرح لایا جائے۔ اُس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اُس میں شرکت کی اور مذکورہ موضوع پر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک تقریر کی۔ حاضرین میں زیادہ تر نوجوان لوگ تھے۔

۲۶۔ تہران ریڈیو نے ۷ اکتوبر ۲۰۰۲ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ ایک امریکی مصنف نے لکھا ہے کہ اسلام ٹیررزم کا مذہب ہے۔ سوالات کا تعلق اسی سے تھا۔ جواب میں دلائل سے بتایا گیا کہ یہ ایک لغو بات ہے۔ اس الزام کی تردید میں میری متعدد کتابیں چھپ چکی ہیں۔ تازہ کتاب کا نام ہے، آئیڈیالوجی آف پیس۔

۲۷۔ نظریۂ امن (Ideology of Peace) کے نام سے ایک تازہ کتاب تیار ہوئی ہے۔ فی الحال وہ انگریزی زبان میں چھپی ہے جو ۱۳۶ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد انشاء اللہ وہ اردو میں بھی شائع ہوگی۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues

Printed page