Don't preach, just teach.
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳
ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر گجرات کے فساد سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ فساد کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ نفرت اور غلط فہمی کے ماحول کو ختم کیا جائے۔ اس کے بغیر فساد کا مستقل خاتمہ نہیں ہوسکتا۔
۲۰۔ جین وشو بھارتی انسٹی ٹیوٹ (راجستھان) کی خاتون وائس چانسلر سدھا ماہٰی نے ۳۱ اگست ۲۰۰۲ کو اپنے انگریزی میگزین (You) کے لیے صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو کا خاص موضوع یہ تھا کہ پازیٹیو تھنکنگ کیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ پازیٹیو تھنکنگ یہ ہے کہ آدمی کی سوچ اتنا زیادہ ترقی کرچکی ہو کہ وہ منفی صورت حال میں بھی مثبت رسپانس دے سکے۔ ایک اور سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر انسان کو انسان کی حیثیت سے دیکھنا چاہئے۔ ہر مرد اور عورت کو یکساں احترام کے قابل سمجھنا چاہئے اور ہر حال میں پر امن روش پر قائم رہنا چاہئے۔
۲۱۔ نئی دہلی (جن پتھ) کے نیشنل میوزیم میں ۱۲ ستمبر ۲۰۰۲ کی شام کو ایک سیمینار ہوا۔ اس کا انتظام نہرو یووا کیندر کی طرف سے کیا گیا تھا۔ صدر اسلامی مرکز کو اس میں خصوصی مقرر کے طور پر خطاب کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ اس کا موضوع تھا: اسلام کیا ہے۔ اس موضوع پر دو گھنٹہ کا پروگرام تھا۔ آخر میں حاضرین کی طرف سے سوالات کیے گیے اور اُن کے جوابات دیے گئے۔ ۲۲۔ ستمبر ۲۰۰۲ کے وسط میں ادارہ الرسالہ ہندی کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے بمبئی کا سفر کیا۔ اس سلسلہ میں مختلف پروگرام ہوئے۔ اس کی روداد انشاء اللہ سفر نامہ کے تحت الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔
۲۳۔ انڈین کونسل آف ریلیجس لیڈرس (نئی دہلی) کی طرف سے اعلیٰ طبقہ کے ہندوؤں کا ایک وفد اجودھیا لے جایا گیا۔ وہ لکھنؤ اور فیض آباد ہوتے ہوئے اجودھیا پہنچا۔ یہ پروگرام ۱۹۔ ۲۰ ستمبر ۲۰۰۲ کو ہوا۔ اس میں صدر اسلامی مرکز کو بھی شریک کیا گیا تھا۔ اس سفر میں مختلف ہندو رہنماؤں سے گفتگو ہوئی اور اجودھیا کے ایک بڑے جلسہ میں خطاب کیا۔ اس خطاب کا خلاصہ یہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues