085 — غیبت کا کفارہ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۳، صفحہ ۲
ہے۔ محنت کی روزی شخصیت کی تکمیل کا اہم ذریعہ ہے۔ اگر مجبوری نہ ہو تب بھی آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنی زندگی کے لیے محنت کا طریقہ اختیار کرے، وہ ہر حال میں اپنے آپ کو آرام طلبی سے بچائے۔ 084 — زبان پر روک پیغمبرِ اسلام نے فرمایا کہ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات کو دہرانے لگے۔ یہ حدیث آداب کلام کے ایک اہم اصول کو بتاتی ہے ۔ وہ یہ کہ آدمی کو چاہئے کہ وہ سوچے بغیر کبھی نہ بولے۔
اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ہم دوسروں کے خلاف بہت سی باتیں سنتے ہیں۔ یہ تجربہ ہے کہ سنی ہوئی بات جب دہرائی جاتی ہے تو اکثر وہ کچھ سے کچھ ہو جاتی ہے۔ حتیٰ کہ بات اتنی بدل سکتی ہے کہ ایک سچی بات جھوٹی بات بن جائے۔ اس لیے صرف سننے کی بنیاد پر آدمی کو اسے کبھی دہرانا نہیں چاہئے۔ اچھی خبر کو دہرانے میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر بری خبر ہو تو اس کو اس وقت تک نہیں دہرانا چاہئے جب تک تحقیق کر کے پوری بات معلوم نہ کر لی جائے۔
085 — غیبت کا کفارہ
پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ غیبت کا ایک کفارہ یہ ہے کہ تم اس کے لیے مغفرت کی دعا کرو جس کی تم نے غیبت کی ہے۔ غیبت یہ ہے کہ آدمی کی غیر موجودگی میں اس کی کسی برائی کو بیان کیا جائے۔ غیبت ایک بدخواہی کا عمل ہے۔ جب کسی آدمی سے غیبت کی غلطی ہو جائے تو اس کو چاہئے کہ وہ اس آدمی کے لیے خیر خواہی کا معاملہ کرے جس کی اس نے غیبت کی ہے۔ اور خیر خواہی کی ایک صورت یہ ہے کہ وہ اس کے حق میں اچھی دعائیں کرے۔ یہ غیبت کرنے والے کی طرف سے بدخواہی کے بعد خیر خواہی کا ایک معاملہ ہوگا جو اس کے گناہ کو اس سے پاک کر دے گا۔ 086 — جامع نصیحت پیغمبر اسلام نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ کیا میں تم کو ایک جامع نصیحت کروں۔ اس نے کہا
‹ Previous page Next page › Contents of October 2003 All issues