087 — صبر و اعراض
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۳، صفحہ ۳
کہ ہاں اے خدا کے رسول۔ آپ نے فرمایا کہ تم اپنی زبان کی حفاظت کرو۔
زبان کی حفاظت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جو کچھ بولے سوچ کر بولے۔ وہ ایسی بات نہ کہے جو دوسروں کو ستانے والی ہو۔ ایسی بات جس سے سماج میں برائی پھیلے اس سے وہ ہر حال میں اپنے آپ کو بچائے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اکثر سماجی برائیاں زبان کی وجہ سے پھیلتی ہیں۔ زبان کو کنٹرول میں رکھنا سماجی برائیوں کا دروازہ بند کرتا ہے اور زبان پر کنٹرول نہ کرنا سماجی برائیوں کا دروازہ کھولتا ہے۔ یہ سنجیدگی کی پہچان ہے کہ آدمی اپنی زبان کو ہمیشہ محتاط انداز میں استعمال کرے۔ زبان کا غلط استعمال یہ ہے کہ آدمی دوسروں کی برائی کرے، وہ دوسروں کے ساتھ سخت کلامی کرے۔ وہ دوسروں کے عیب کو ڈھونڈ کر اسے لوگوں میں پھیلائے۔
087 — صبر و اعراض
اسلام کی ایک تعلیم صبر ہے۔ قرآن میں بار بار صبر کی تاکید کی گئی ہے۔ مزید فرمایا کہ اپنے رب کے لیے صبر کرو (ولربک فاصبر) اسی طرح فرمایا کہ صبر کرو اور تمہارا صبر اللہ کے لیے ہے۔ جب ایک آدمی صبر کرتا ہے تو بظاہر اس کا یہ صبر کسی انسان کے مقابلہ میں ہوتا ہے مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ خدا کے تخلیقی نقشہ سے مطابقت کرنے کے ہم معنیٰ ہوتا ہے۔
خدا نے دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ یہاں ہر ایک کو آزادی ہو۔ ہر ایک کے لیے مسابقت کا کھلا ماحول ہو۔ اس بنا پر بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک کو دوسرے سے شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ ایک کو دوسرے سے نقصان کا تجربہ ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں ناخوش گوار تجربہ پر صبر کرنا گویا خدا کے تخلیقی نقشہ پر راضی ہونا ہے۔ صبر کی اسی اہمیت کی بنا پر خدا نے صبر کو خود اپنے لیے صبر کرنے کا معاملہ بتایا۔ قرآن میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ جو آدمی صبر کرے گا اس کو بے حساب انعام دیا جائے گا۔ 088 — یک طرفہ برداشت پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ جو تمہارے اوپر ظلم کرے اس کو معاف کر دو۔ یہ نہایت حکمت کی تعلیم ہے۔ ظلم کا خاتمہ ظلم کو معاف کرکے ہوتا ہے۔ ظلم کے خلاف جوابی کارروائی کرنا کبھی ظلم کو ختم نہیں کرتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2003 All issues