Al-Risala · October 2003 · page 46

095 - شیطان سے پناہ مانگنا

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۳، صفحہ ۴۶

اصل یہ ہے کہ اس دنیا میں مشکل کے مقابلہ میں امکانات کی مقدار بہت زیادہ ہے۔ اگر ایک مشکل پیدا ہو یا ایک بار کوئی نقصان ہو جائے تو آدمی کو مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ بلکہ اس کو چاہئے کہ وہ اپنی سوچنے کی صلاحیت کو استعمال کرے۔ جب وہ سوچے گا تو وہ جانے گا کہ عین اسی وقت اور ٹھیک اسی مقام پر اس کے لیے بہت سے نئے امکانات موجود ہیں۔ وہ ایک چانس کو کھو کر وہ دوسرا چانس پا سکتا ہے جس کو استعمال کر کے وہ دوبارہ آگے بڑھ جائے۔ موجودہ دنیا میں زندگی کا بہترین فارمولا یہ ہے کہ مسائل کو نظر انداز کرو اور مواقع کو استعمال کرو۔ ناموافق حالات کو حسن تدبیر سے اپنے موافق بنانے کی کوشش کرو۔ ناکامی کو زیادہ بہتر منصوبہ بندی کے ذریعہ کامیابی میں تبدیل کرو۔ خدا کی اس دنیا میں یہ ممکن ہے کہ آدمی اپنی عقل کو استعمال کر کے اپنے مائنس کو پلس بنا سکے۔ یہ امکان ہر اس شخص کے لیے موجود ہے جو ہمت نہ ہارے جو نا امیدی کے حالات میں بھی پرامید بنا رہے۔ 098 — آسان طریقہ کا انتخاب پیغمبر اسلام کی اہلیہ عائشہ پیغمبر کی عمومی پالیسی کو بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ جب بھی پیغمبر اسلام کو دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ مشکل انتخاب کو چھوڑ دیتے اور آسان انتخاب کو لے لیتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ کو پر تشدد طریقہ کار اور پرامن طریقہ کار کے درمیان انتخاب کرنا ہوتا تو آپ پر تشدد طریقہ کار کو چھوڑ دیتے اور پرامن طریقہ کار کو اختیار کرتے۔ اس طرح جب بھی آپ کو اعراض اور ٹکراؤ کے درمیان انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ ٹکراؤ کے طریقہ کو چھوڑ دیتے اور اعراض کے طریقہ کو اختیار کرتے۔ اسی طرح جب آپ کو جنگ اور صلح کے درمیان انتخاب کا موقع ہوتا تو آپ ہمیشہ جنگ کو چھوڑ دیتے اور صلح کو قبول کرلیتے۔

یہی حکمت ہے۔ اس حکمت کا فائدہ یہ ہے کہ آدمی کسی مزید بگاڑ سے بچ جائے اور اپنے معاملات کو کامیابی کے ساتھ درست کرتا چلا جائے۔ ہر معاملہ میں ہمیشہ دونوں طریق کار کا امکان ہوتا ہے۔ مگر عقل مندی وہی ہے جس کا نمونہ پیغمبر اسلام کی زندگی میں ہمیں ملتا ہے۔ 099 — ناپسندیدگی میں خیر قرآن میں ایک موقع پر نصیحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ : ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناگوار

‹ Previous page Next page › Contents of October 2003 All issues

Printed page