Al-Risala · October 2003 · page 47

100 — ایک دعا

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۳، صفحہ ۴۷

سمجھو اور وہ تمہارے لیے بھلی ہو۔ اور ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے بری ہو۔ اس آیت کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ لوگ عام طور پر چیزوں کو ظاہر کے اعتبار سے دیکھتے ہیں۔ وہ ظاہری دلکشی کی بنا پر ایک چیز کو پسند کرنے لگتے ہیں۔ اور جو چیز ظاہر کے اعتبار سے دلکش نہ ہو اس کو ناپسندیدہ سمجھ کر رد کر دیتے ہیں۔ مگر حقیقی انجام کے اعتبار سے یہ طریقہ درست نہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک چیز بظاہر دیکھنے میں اچھی نہیں لگتی مگر اصل حقیقت کے اعتبار سے انسان کے لیے اسی میں فائدہ چھپا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ایک چیز بظاہر دیکھنے میں اچھی لگتی ہے مگر اصل حقیقت کے اعتبار سے وہ برے انجام کی طرف لے جانے والی ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں آدمی کو چاہئے کہ وہ ظاہر کے اعتبار سے چیزوں کے بارے میں فیصلہ نہ کرے بلکہ وہ گہری حقیقتوں کے اعتبار سے چیزوں کو دیکھے اور اس کے مطابق فیصلہ کرے۔

100 — ایک دعا

پیغمبر اسلام کی ایک دعا ان الفاظ میں آئی ہے: اللهم ارنا الحق حقاً و ارزقنا اتباعه وارنا الباطل باطلاً و ارزقنا اجتنابه وارنا الاشياء كما هی۔ (اے خدا مجھے حق کو حق کی صورت میں دکھا اور مجھے اس کی پیروی کی توفیق دے اور مجھے باطل کو باطل کی صورت میں دکھا اور مجھے اس سے بچنے کی توفیق دے اور مجھے چیزوں کو ویسا ہی دکھا جیسا کہ وہ ہیں)۔

موجودہ دنیا میں سب سے زیادہ ضروری چیز یہ ہے کہ آدمی کے اندر موضوعی طرزِ فکر (objective thinking) ہو۔ اس حدیث میں اسی کے لیے دعا کی تعلیم دی گئی ہے۔ موجودہ دنیا میں آدمی ایسے حالات کے درمیان رہتا ہے کہ وہ اکثر حق کو باطل کے روپ میں دیکھنے لگتا ہے اور باطل کو حق کے روپ میں۔ اس دعا میں بندہ اپنے رب سے سوال کر رہا ہے کہ وہ اس کو اس گمراہی سے بچائے۔ وہ اس کے اندر وہ نگاہ پیدا کرے جو چیزوں کو اس کی اصل روپ (as it is) میں دیکھنے لگے۔ صحیح سوچ سے صحیح عمل پیدا ہوتا ہے اور صحیح عمل آدمی کو ہمیشہ کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔ اس پیغمبرانہ دعا کے مطابق، ہر انسان اس فکری مسئلہ سے دوچار ہے کہ حق اس کو حق کی صورت میں نہ دکھائی دے اور باطل اس کو باطل کی صورت میں نہ دکھائی دے۔ یہ مسئلہ کنڈیشننگ (conditioning)

‹ Previous page Next page › Contents of October 2003 All issues

Printed page