Al-Risala · November 2003 · page 8

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۸

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۸

آگئے۔ اس کے بعد ۵ دسمبر تک انہی کے گھر پر قیام رہا۔ مختلف جگہوں سے لوگوں کے تقاضے تھے مگر میں رمضان کی وجہ سے ادھر ادھر نہ جا سکا۔ بعد کے تمام دن صغیر اسلم صاحب کے ساتھ گزرے۔ چنانچہ اس زمانہ قیام کے تجربات زیادہ تر صغیر اسلم صاحب یا ان کے آس پاس کے ماحول سے متعلق ہیں۔ امریکا میں کئی افراد اور گروپ ہیں جو ہندوستان اور پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں کی تعلیم کے لیے کافی کام کر رہے ہیں۔ چنانچہ ان کی مدد سے ان ملکوں میں ہزاروں مسلم نوجوانوں کو پروفیشنل تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ کئی ادارے مسلمانوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔ یہاں ان امریکی مسلمانوں سے میری ملاقات ہوئی۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ مسلمانوں کی اقتصادی ترقی کے لیے جو کام کر رہے ہیں وہ بجائے خود بہت اہم ہے مگر بہر حال وہ ایک ثانوی کام ہے۔ اصل کام جس کی آج سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ مسلمانوں کو اسلامی قیادت دینا ہے۔ میں نے کہا کہ چند سو سال پہلے ہمارے مدارس یہ کام کر رہے تھے۔ مدارس کے ذریعہ نہ صرف دینی تعلیم زندہ تھی بلکہ یہی مدارس وہ افراد بھی پیدا کر رہے تھے جو مسلمانوں کو اسلامی قیادت فراہم کر سکیں۔ مگر اب یہ کام عملاً ختم ہو گیا ہے۔ یہ مدارس اس اعتبار سے اپنی عمر ختم کر چکے ہیں۔ ان کا موجودہ نظام دورِ جدید کی قیادت فراہم کرنے کے لیے اسی طرح ناکافی ہے جس طرح ہندی کا کورس انگریزی انشا پرداز پیدا کرنے کے لیے۔

ہمارے موجودہ مدرسے قدیم شرحیں پڑھاتے ہیں جب کہ آج جدید شرحوں کی ضرورت ہے۔ ان مدرسوں کے نصاب میں جو کتابیں ہیں ان میں مناظرہ کا موضوع ہے مگر ڈائیلاگ کا موضوع نہیں۔ ان میں جہاد کے ابواب ہیں مگر پر امن دعوت کے ابواب نہیں، ان میں غیر تنقیدی ذہن کی تشکیل کی جاتی ہے جب کہ آج دنیا میں تنقیدی ذہن کا دور آ چکا ہے۔ ان مدارس کی تعلیم اسی قدیم نہج پر ہوتی ہے۔ گویا کہ تاریخ کا سفر ان کے مفروضہ اکابر پر ختم ہو گیا ہے جب کہ ان کے باہر کی دنیا میں تاریخ کا سفر ان کے اپنے اکابر کے دور سے بہت زیادہ آگے جا چکا ہے، وغیرہ۔

۲۵ نومبر ۲۰۰۰ کی شام کو میں جناب صغیر اسلم صاحب کے مکان پر تھا۔ وہاں ان کے داماد

‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues

Printed page