Al-Risala · November 2003 · page 9

Council on Islamic Education

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۹

جناب عمران صاحب آ گئے۔ وہ ایک کمپیوٹر کمپنی میں ہیں جہاں ہندوستان اور پاکستان کے کئی مسلمان کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن مسلمانوں سے میری ملاقات ہوئی وہ اکثر آپ کے بارے میں منفی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ ان لوگوں کی شکایتیں جھوٹی شکایتیں ہیں، ان کا سچائی سے کوئی تعلق نہیں۔ پھر میں نے کہا کہ اللہ کے فضل سے میں نے جو سچائی دریافت کی ہے وہ اتنی زیادہ عظیم ہے کہ اس کے بعد کوئی بھی محرومی میرے لیے محرومی نہیں۔ یہ گفتگو رات کے 9 بجے ہو رہی تھی۔ میں نے کہا کہ اس وقت میں صغیر اسلم صاحب کے گھر پر ہوں۔ اگر وہ اپنے گھر سے نکال دیں اور کہیں کہ تم میرے گھر میں کیسے گھس آئے ہو، فوراً باہر جاؤ تو میں کسی شکایت کے بغیر نہایت خاموشی اور سکون کے ساتھ باہر چلا جاؤں گا۔ اس لیے کہ صغیر اسلم صاحب مجھ سے اپنا گھر چھین سکتے ہیں، مگر وہ مجھ سے خدائے برتر کو نہیں چھین سکتے۔ وہ کائنات کو مجھ سے نہیں چھین سکتے۔ وہ میری معرفت حق کو مجھ سے نہیں چھین سکتے۔ صغیر اسلم صاحب کے گھر سے محرومی کے بعد بھی ایمان باللہ کا زیادہ بڑا سرمایہ مجھے حاصل رہے گا جس پر میں اعتماد کر سکوں۔ مجھ کو ایک زمین ملی ہوئی ہوگی جس کے اوپر میں چلوں پھروں۔ اس کے باوجود میرے گرد و پیش ہوا ہوگی جس سے میں سانس لے سکوں، درخت ہوں گے جس کی سرسبزی میں میں خدا کی ربوبیت کا جلوہ دیکھوں۔ حقیقت یہ ہے کہ صغیر اسلم صاحب کے گھر سے محرومی کے بعد بھی مجھے اس سے بہت زیادہ بڑی چیز حاصل رہے گی۔ پھر میرے لیے شکایت اور احساس محرومی کی کوئی ضرورت نہیں۔ جو لوگ محرومی میں جیتے ہوں اُن کے پاس ہمیشہ شکایت کے الفاظ ہوتے ہیں۔ مگر میں اللہ کے فضل سے یافت میں جیتا ہوں۔ اس لیے میری زبان وقلم سے شکایت کے الفاظ بھی نہیں نکلتے۔ آرنچ کاؤنٹی میں ایک ادارہ ہے جس کو میں نے ۲۹ نومبر ۲۰۰۰ کو دیکھا۔ یہ ادارہ ۱۹۹۰ میں قائم ہوا۔ اس کے فاؤ نڈنگ ڈائرکٹرشبیرمنصوری صاحب (پیدائش ۱۹۴۵) ہیں۔ اس ادارہ کا نام یہ ہے:

Council on Islamic Education

یہ ادارہ اُسی مقصد کے لیے قائم ہے جس کو ہندوستانی مسلمانوں کی زبان میں اصلاح نصاب

‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues

Printed page