Muhammad A Subhan M.D.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۱۲
میں جاری ہے۔ موجودہ زمانے کاایک نیاظاہرہ یہ ہے کہ اسلام میں مختلف اعتبار سے ایسے عمومی پہلو پیدا کر دیے گئے ہیں جنہوں نے اس کو عالمی مطالعہ کا موضوع بنا دیا ہے۔ چنانچہ ریڈیو اور ٹی وی پر اسلامی پروگرام آتے ہیں۔ اسی طرح سے میک ملن اور پنگوئن جیسے ادارے اسلام پر کتابیں چھاپ رہے ہیں۔ اس طرح مختلف ذرائع سے اسلام کا تعارف ہورہا ہے۔ اس کو میں دعوہ پر اس کہتا ہوں۔ سی آئی ای کے موجودہ کام کو بھی اس عالمی دعوہ پر اس کا ایک جز ء کہا جاسکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ دعوت اگر براہ راست اسلامی تبلیغ کا نام ہے تو سی آئی ای جیسے اداروں کا کام گویا بالواسطہ تبلیغ۔ امریکہ کے سفر میں ۲۴ نومبر ۲۰۰۰ کوایری زونا کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ میری تحریریں پڑھتے رہے ہیں اور انہوں نے اس سے بہت فائدہ حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اسلام کے بارے میں کنزرویٹو تھا۔ آپ کی کتابیں پڑھ کر مجھے شرح صدر ہو گیا۔ ان کا نام یہ ہے:
Muhammad A Subhan M.D.
امریکہ کے سفر میں اس قسم کے بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ اکثر لوگوں نے یہی کہا کہ دوسری کتابیں پڑھ کر یا دوسروں کی تقریریں سن کر ہمارا ایک خاص ذہن بن گیا تھا۔ اور ہم اسی کو اختیار کئے ہوئے تھے۔ مگر آپ کی تحریریں پڑھنے کے بعد معلوم ہوا کہ ہمارا یہ ذہن اسلام کے مطابق نہ تھا۔ چنانچہ اب اللہ کے فضل سے ہم صحیح اسلامی نظریہ کے مطابق سوچنے لگے ہیں۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں میں جومحرّرین اورمقررین ابھرے وہ سب ردعمل کی پیداوار تھے۔ حالات کے ردعمل کے تحت ان کی جو سوچ بنی اس کو انہوں نے اسلام کی اصطلاحوں میں بیان کرنا شروع کر دیا۔ موجودہ زمانہ میں اس قسم کی منفی تقریروں اور تحریروں کا ایک جنگل ہے جس میں مسلمانوں کی جدید نسل اپنے آپ کو گھرا ہوا پاتی ہے۔ یہ ایک قسم کی ذہنی کہر آلودگی (befogging of mind) کا مسئلہ ہے۔ الرساله مشن اللہ کے فضل سے اس ذہنی کہر کو دور کر رہا ہے۔ وہ لوگوں کو اس قابل بنا رہا ہے کہ وہ کھلے ذہن کے تحت اسلام کی سچی تصویر کو دیکھ سکیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues