Al-Risala · November 2003 · page 14

ایک واقعاتی مثال

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۱۴

جاتے ہیں جنہوں نے زیرو کے مقام سے آغاز کر کے یہاں ایسی ترقی حاصل کی جو بہت سے لوگوں کے لیے قابل رشک ہے۔ ترقی کا یہ سفر انہوں نے کیسے طے کیا اس کا خلاصہ دو لفظ میں یہ ہے محنت اور دیانت داری۔

ان کی یہ داستان بہت لمبی ہے۔ انہوں نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا ہے کہ ہر آدمی بڑی سے بڑی ترقی کر سکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ وہ اس ترقی کی مطلوب قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہو۔ مثلاً 1961 میں انہوں نے مختلف دفتروں اور کمپنیوں میں کام حاصل کرنے کی کوشش کی مگر کوئی انہیں کام دینے کے لیے تیار نہ ہوا۔ اس کا سبب غالباً وہی چیز تھی جس کو عام طور پر تعصب کہا جاتا ہے۔ کمپنی والوں کو پاکستان وغیرہ کے لوگ بیرون امریکی(Foreigner) دکھائی دیتے تھے جب کہ ان کا خیال تھا کہ کوئی امریکی آدمی ان کے لیے زیادہ مفید ہو سکتا ہے، نہ کہ غیر امریکی آدمی۔ صغیر اسلم صاحب نے اپنی محنت اور دیانت داری کے ذریعہ یہ ثابت کر دیا کہ وہ کمپنی کے لیے ایک نہایت مفید کارکن ہیں۔ چنانچہ ان کے کام پر ایک ہفتہ گزراتھاکہ کمپنی والوں نے اُن کی باقاعدہ تنخواہ مقرر کر دی۔ صغیر اسلم صاحب اس کمپنی میں 11 سال (1961-1972 رہے)۔ کمپنی والوں نے ان کے ساتھ نہایت عزت کا سلوک کیا۔ ہر سال ان کی تنخواہ بڑھاتے رہے یہاں تک کہ جب انہوں نے خود اپنی مرضی سے ان کے کام کو چھوڑا تو انہیں کمپنی سے ملنے والی ماہانہ رقم پہلے سال کے مقابلہ میں پچیس گنا زیادہ ہو چکی تھی۔

صغیر اسلم صاحب نے اس کمپنی میں اپنے عمل سے کتنا زیادہ اعتماد پیدا کر لیا تھا اس کا اندازہ ایک واقعہ سے ہوتا ہے۔ ایک بار ایسا ہوا کہ کمپنی کے مالک (Boss) سے ان کا سخت اختلاف ہو گیا۔ یہ باس جیب اسٹورٹ مارنڈر (Jeb Stuart Magrmder) ان سے ایک ایسا کام کرانا چاہتا تھا جو صغیر اسلم صاحب کے نزدیک اصول کے خلاف تھا۔ چنانچہ انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ جب بحث بڑھی تو وہ یہ کہہ کر اس کے پاس سے اٹھ گئے کہ میں آج ہی اپنا استعفیٰ (Resign) کمپنی کو دے دوں گا۔ جس کام کو میں اصول کے خلاف سمجھتا ہوں، اس کو کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔ یہ کہہ کر وہ آفس سے اٹھ

‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues

Printed page