God Almighty made me and threw the mould away.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۱۵
گئے ابھی وہ آفس کے بیرونی دروازے پر پہنچے تھے کہ باس اپنی کرسی سے اٹھ کر آیا اور اصرار کرکے ان کو واپس لے گیا اور ان سے کہا کہ آپ ہماری کمپنی کو ہرگز نہ چھوڑیں: Company needs you. We can not afford to lose you. آپ آزادی کے ساتھ اپنا کام کریں۔ آج کے بعد میں کبھی آپ کے کسی کام میں مداخلت نہ کروں گا۔ صغیر اسلم صاحب کا مزاج اور طریقِ کار عام لوگوں سے بہت مختلف ہے۔ چنانچہ کئی لوگ ان کو ایک منفر دانسان (man with a difference) کہتے ہیں۔ خود وہ اپنے بارے میں مذاق کے انداز میں کہتے ہیں کہ خدا نے مجھ کو پیدا ا اور پھر اس سانچے کو پھینک دیا:
God Almighty made me and threw the mould away.
میں نے صغیر اسلم صاحب کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ میرا احساس یہ ہے کہ وہ اس ہندی مقولہ کے مصداق ہیں کہ سادھاڑن گنوں سے اَسادھاڑن منش بنتے ہیں۔
مجھے ذاتی طور پر اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ کسی آدمی کے اندر طلسماتی صفات ہوں یا وہ کراماتی شعبدے دکھاتا ہو۔ اسی طرح مجھے اس سے بھی کوئی دلچسپی نہیں کہ کوئی آدمی شاندار گفتگو کرنا جانتا ہو۔ وہ ہائی پروفائل (High Profile) میں کلام کرے اور بڑے بڑے اقدامات کا کارنامہ دکھائے۔ مجھے اس سے بھی دلچسپی نہیں کہ کوئی شخص حکمرانوں کو للکارے اور چیلنج (challenge) کی زبان بولے۔ یہ چیز بھی مجھے متاثر نہیں کرتی کہ کوئی شخص ایسے کام کرنے کا ماہر ہو جو میڈیا میں نمایاں ہو اور عوام کی بھیڑ اس کے گرد اکٹھا ہو جائے۔ اس قسم کی تمام چیزوں کو میں سطحیت سمجھتاہوں ،اورسطحیت سے مجھے اس قدر بیزاری ہے کہ ایسی چیزوں کا تذکرہ کرنا ہی مجھے پسند نہیں۔
صغیر اسلم صاحب کی شخصیت جس بنا پر مجھے قابلِ تذکرہ نظر آئی وہ یہ کہ ان کی زندگی میں ہر انسان کے لیے سبق ہے۔ ان کی زندگی کی فطرت کے سادہ اصولوں پر عمل کرکے بنی ہے۔ ان کی زندگی کے اصول اتنے زیادہ سادہ ہیں کہ کوئی بھی شخص ان پر عمل کر سکتا ہے۔ جس طرح خود انہوں نے ان پر عمل کیا اور پھر ترقی حاصل کی۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues