Al-Risala · January 2003 · page

اہل جنت کے درجات

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳

پر یہ کلمہ آجائے کہ یرحمک اللہ۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا مومن وہ ہے جس کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو اپنی بڑھی ہوئی معرفت کی بنا پر اُس کا یہ حال ہو کہ اللہ کی عظمت کے احساس سے اُس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ اللہ کی کبریائی کو سوچ کر اُس کا دل دہل اُٹھے، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: انما المؤمنون الذین اذا ذکر اللہ وجلت قلوبہم (الانفال ۲)۔

اسی طرح ایک مومن وہ ہے جس نے قرآن میں یہ آیت پڑھی: والذی ہو یطعمنی ویسقین (الشعراء ۷۹)۔ اُس نے اس آیت کو اُس کے ظاہری مفہوم کے اعتبار سے لیا اور اُس کی زبان پر شکر کے الفاظ آگئے۔ دوسرا مومن وہ ہے جو اس آیت کو پڑھے تو اُس کے ذہن میں حقائق کا ایک دفتر کھل جائے۔ وہ سوچے کہ زمین و آسمان کے اندر بے شمار سرگرمیاں ظہور میں آئیں ۔ اُس کے بعد یہ ممکن ہوا کہ وہ چیز بن کر تیار ہو جس کو ہم کھانا اور پانی کہتے ہیں اور جو زندگی کی بقا کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ یہ سوچ کر اُس کے سینے میں کمالات خداوندی کے اعتراف کا ایک سمندر موجزن ہو جائے۔ حتی کہ یہ احساس اُس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی شکل میں بہہ پڑے۔ یہ دونوں ہی مومن حمد خداوندی کے احساس کے حامل ہیں۔ مگر معرفت کے فرق کے اعتبار سے دونوں کے درمیان اتنا زیادہ فرق پیدا ہوگیا ہے کہ اُس کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ قرآن وحدیث سے ثابت ہے کہ جو لوگ سچے دل کے ساتھ ایمان لائیں، جن کی نیتیں درست ہوں ۔ جو بقدر استطاعت اللہ کے احکام کی پابندی کریں وہ جنت میں جائیں گے۔ مگر یہ ایمان کا ابتدائی درجہ ہے۔ ایمان کا اعلیٰ درجہ وہ ہے جو معرفت کے سفر کے ساتھ ترقی کرتا رہتا ہے۔ جو ربانی سمندر میں فکری غوطہ لگانے سے حاصل ہوتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ دونوں قسم کے اصحاب ایمان کے لیے جنت ہے۔ مگر جنت کی نعمتوں سے محظوظ ہونے کے معاملہ میں ایک مومن اور دوسرے مومن کے درمیان وہی فرق ہو جائے گا جو دنیا میں معرفت حق کے اعتبار سے دونوں کے درمیان پایا جاتا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues

Printed page