اسلام اور دوسرے مذاہب
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۵۳
اسلام اور دوسرے مذاہب
اسلام اور دوسرے مذاہب کے درمیان یہ فرق نہیں ہے کہ اسلام افضل دین ہے اور دوسرے مذاہب غیر افضل دین یا اسلام کامل دین ہے اور دوسرے مذاہب غیر کامل دین۔ اسلام اور دوسرے مذاہب میں یہ ارتقائی فرق بھی نہیں ہے کہ اسلام مذہب کی اعلیٰ صورت (higher form) ہے اور دوسرے مذاہب اس کی ادنیٰ صورت (lower form)۔ اسلام اور دوسرے مذاہب کے درمیان اس قسم کی تقسیم سراسر بے بنیاد ہے۔ اس کا ماخذ نہ قرآن وحدیث میں ہے اور نہ تاریخی ریکارڈ میں۔ اسلام اور دوسرے مذاہب کے درمیان اصلی فرق یہ ہے کہ اسلام ایک محفوظ مذہب ہے اور دوسرے مذاہب غیر محفوظ مذہب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سائنٹفک ریکارڈ کے مطابق، اسلام کو تاریخی اعتباریت (historical credibility) حاصل ہے۔ جب کہ دوسرے مذاہب میں سے کوئی بھی مذہب ایسا نہیں جس کو تاریخی اعتباریت کا درجہ حاصل ہو۔
اسلام اور دوسرے مذاہب کا یہ فرق کسی پر اسرار عقیدہ پر قائم نہیں ہے بلکہ وہ خالص علمی طور پر قابل فہم ہے۔ وہ ایک واضح موضوعی حقیقت (objective fact) پر مبنی ہے۔ اس معاملہ کا اشارہ خود قرآن میں موجود ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے قرآن کی دو آیتوں کا مطالعہ کیجئے ۔ قرآن میں پچھلی الہامی کتابوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: بما استحفظوا من کتاب الله (المائدۃ۔ ۴۴) یعنی پچھلی کتابوں کے حاملین پر یہ ذمہ داری ڈالی گئی تھی کہ وہ اپنی کتاب کی حفاظت کریں۔ For to them, was entrusted the protection of Allah's Book. قرآن کی اس آیت میںاستحفاظ کا لفظ آیا ہے۔ استحفاظ باب استفعال سے ہے۔ عربی قاعدہ کے مطابق ، باب استفعال میں طلب کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے استحفاظ کا مطلب ہے، حفاظت چاہنا یا حفاظت طلب کرنا۔ عربی میں کہا جاتا ہے، استحفظ مالا ۔ مال محفوظ رکھنے کو کہنا (سأله أن يحفظه)
‹ Previous page Next page › Contents of December 2003 All issues