Al-Risala · December 2003 · page 54

اسلام اور دوسرے مذاہب

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۵۴

اس وضاحت کے مطابق ، مذکورہ قرآنی آیت کا مطلب یہ ہے کہ پچھلی آسمانی کتابیں جن لوگوں کے اوپر اتاری گئیں ان سے کہا گیا تھا کہ ان کو خود ان کتابوں کی حفاظت کرنا ہے۔ اُن کو انہیں نہ صرف پڑھنا ہے بلکہ ان کو محفوظ بھی رکھنا ہے۔

اس کے برعکس، جہاں قرآن کا ذکر ہے وہاں اس سے مختلف الفاظ آئے ہیں۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے: انا نحن نزلنا الذکر و انا له لحفظون (الحجر - ۹) یعنی اللہ نے قرآن کو اتارا ہے اور اللہ ہی اس کی حفاظت کرنے والا ہے۔

It was We who revealed the Quran, and We will certainly preserve it. اس تقابل سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن اور دوسری آسمانی کتابوں میں بنیادی فرق کیا تھا۔ وہ فرق یہ تھا کہ پچھلی آسمانی کتابوں کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری انسان کے اوپر تھی جب کہ قرآن کی حفاظت کا کام خود خدا نے اپنے ذمہ لے لیا۔ گویا قرآن اور اس سے پہلے کی آسمانی کتابوں میں جو فرق تھا وہ تعلیمات کے اعتبار سے نہ تھا بلکہ یہ فرق حفاظت کی ذمہ داری کے اعتبار سے تھا۔ مزید غور کیجئے تو معلوم ہوتا ہے کہ فرق کا یہ معاملہ کوئی پر اسرار معاملہ نہیں بلکہ وہ ایک معلوم تاریخی معاملہ ہے۔ اس کو خالص سائنٹفک مطالعہ کے ذریعہ سمجھا جاسکتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ حفاظتِ کتاب کے اعتبار سے تاریخ کے دو دور ہیں۔ پہلا دور وہ ہے جب کہ کسی پیغام کی حفاظت کا معاملہ زیادہ تر انسان کے اوپر منحصر ہوتا تھا۔ کوئی پیغام عملاً انسان کی یادداشت میں موجود رہتا تھا۔ انسان اگر اس کو بھول جائے یا وہ مر جائے تو اس کے ساتھ پیغام بھی معدوم ہو جاتا تھا۔ مزید یہ کہ انسان ایک صاحب ارادہ مخلوق ہے۔ وہ اس پر قادر ہے کہ اس کے پاس جو پیغام ہے اس کو اس کی اصلی حالت پر باقی رکھے یا وہ اس کو بدل ڈالے۔

اس قدیم دور کو انسانی دور حفاظت کہا جاسکتا ہے، یعنی وہ دور جب کہ حفاظت کا کام تمام تر انسان کی مرضی پر منحصر ہوتا تھا۔ قرآن سے پہلے کی تمام آسمانی کتابیں بنیادی طور پر اسی انسانی حفاظت

‹ Previous page Next page › Contents of December 2003 All issues

Printed page