دارالاسلام، دارالحرب
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۵۹
دارالاسلام، دارالحرب
دارالاسلام اور دارالحرب کی اصطلاح زمانہ نبوت کے ڈیڑھ سو سال بعد عباسی دور میں بنی۔ یہ الفاظ قرآن اور حدیث میں استعمال نہیں ہوئے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ کہنا درست ہوگا کہ یہ دونوں اصطلاحیں مبتدعانہ اصطلاحیں تھیں۔ ان کو قرآنی اصطلاح یا مسنون اصطلاح نہیں کہا جا سکتا۔ فقہاء کے نزدیک دارالاسلام سے مراد وہ ملک ہے جہاں مسلمانوں کو اسلام پر عمل کرنے کی پوری آزادی حاصل ہو۔ دارالحرب سے مراد وہ ملک ہے جو مسلمانوں کے لیے معاند ملک کی حیثیت رکھتا ہو، جس سے مسلمان امکانی طور پر جنگ (potentially at war) کی حالت میں ہوں۔ یہ دونوں اصطلاحیں ذاتی قیاس کے تحت بنائی گئیں۔ حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ اتنی اہم اصطلاح خالص قرآن کی روشنی میں بنائی جائے۔
اس نظر سے قرآن کو دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ دو قسم کے علاقوں کے اس فرق کو بتانے کے لیے زیادہ درست الفاظ دوسرے ہیں۔ اور وہ دار الخوف اور دار الامن کے الفاظ ہیں۔ اس رائے کا مآخذ قرآن کی وہ آیت ہے جس کا ترجمہ یہ ہے:
اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو زمین میں اقتدار دے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو اقتدار دیا تھا۔ اور ان کے لیے ان کے دین کو جما دے گا جس کو اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے۔ اور ان کی خوف کی حالت کے بعد اس کو امن کی حالت سے بدل دے گا۔ وہ صرف میری عبادت کریں گے اور کسی بھی چیز کو میرا شریک نہ بنائیں گے۔ اور جو اس کے بعد انکار کرے تو ایسے ہی لوگ نافرمان ہیں۔ (النور۔ ۵۵)
قرآن کی اس آیت کے مطابق، دور اول کے مسلمان اپنے ابتدائی دور میں خوف کی حالت
‹ Previous page Next page › Contents of December 2003 All issues