Al-Risala · December 2003 · page 58

اسلام اور دوسرے مذاہب

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۵۸

آگیا۔ اس زمانہ میں اہل یورپ نے پرنٹنگ پریس ایجاد کیا۔ نپولین بونا پارٹ ۱۷۹۸ء میں مصر میں داخل ہوا۔ نپولین پہلا شخص تھا جو مسلم دنیا میں پرنٹنگ پریس لے آیا۔ اُس وقت تک زیادہ بہتر قسم کا کاغذ عام ہو چکا تھا۔ یہ وہ زمانہ ہے جب کہ قرآن پہلی بار پرنٹنگ پریس کے ذریعہ چھاپا گیا۔ اس کے بعد ساری مسلم دنیا میں قرآن کو چھاپنے کا عمل شروع ہو گیا۔ یہاں تک کہ اب یہ حالت ہے کہ تمام دنیا میں مسلمانوں کے گھر، مسجدیں اور مدرسے اور کتب خانے اور بازار قرآن کے مطبوعہ نسخوں سے بھر گئے ہیں۔ اس طرح اب قرآن کی حفاظت کا کام آخری طور پر مکمل ہو چکا ہے۔ قرآن مکمل طور پر ایک محفوظ کتاب ہے، یہ ایک ایسی تاریخی حقیقت ہے جس کا اعتراف عام طور پر اہل علم نے کیا ہے۔ یہاں اس سلسلہ میں صرف ایک حوالہ نقل کیا جاتا ہے۔ انڈیا کے مشہور مذہبی لیڈر سوامی وویکا نند فروری ۱۸۹۱ میں الور آئے۔ وہاں ہندو اور مسلمان دونوں نے ان کا استقبال کیا۔ انہوں نے ایک مسلم عالم سے کہا کہ قرآن کی ایک امتیازی صفت یہ ہے کہ آج بھی وہ اسی اصل حالت میں موجود ہے جیسا کہ وہ گیارہ سو سال پہلے تھا۔ اس کتاب نے اپنی خالص حیثیت کو پوری طرح محفوظ رکھا ہے وہ کسی بھی ملاوٹ سے پوری طرح پاک ہے:

In Alwar, where Swamiji arrived one morning in the beginning of February 1891, he was cordially received by Hindus and Moslems alike. To a Moslem scholar he said: 'There is one thing very remarkable about the Qur'an. Even to this day it exists as it was recorded eleven hundred years ago. The book has retained its original purity and is free from interpolation'. Vivekananda: A Biography by Swami Nikhilananda Advaita Ashram, Calcutta, 2001, p. 102

‹ Previous page Next page › Contents of December 2003 All issues

Printed page