Al-Risala · December 2003 · page 61

دارالاسلام، دارالحرب

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۶۱

مفروضہ خوف کے نام پر اہلِ عالم سے بے فائدہ لڑائی چھیڑ دیں۔

اب مسلمانوں کو یہ نہیں کرنا ہے کہ وہ دار الاسلام یا دارالامن قائم کرنے کے نام پر غیر مسلم قوموں سے لڑائی کریں۔ اس کے برعکس اب اہل اسلام کو یہ کرنا ہے کہ وہ ہر حال میں دارالامن کے محافظ بنے رہیں۔ اب مسلمانوں کو اُس نادانی سے بچنا ہے جس کا ذکر حدیث میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے :

عن حذيفة عن النبی صلی الله عليه وسلم قال : لا ينبغي لمسلم ان يذل نفسه، قيل و كيف يذل نفسه قال يتعرض من البلاء لما لا يطيق (مسند احمد، ۵/ ۴۰۵)

حضرت حذیفہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مسلم کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ خود اپنے آپ کو ذلیل کرے۔ پوچھا گیا کہ کوئی شخص خود اپنے آپ کو کیسے ذلیل کرے گا۔ آپ نے فرمایا کہ وہ ایک ایسی بلا سے تعرض کرے جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو۔ قرآن کی مذکورہ آیت کے مطابق ، دنیا کا ہر ملک اب اہل اسلام کے لیے دارالامن بن چکا ہے۔ دارالامن سے مراد وہ جگہ ہے جہاں پر امن دینی عمل کے مواقع موجود ہوں۔ اب جب کہ خدا نے تمام دنیا کو مسلمانوں کے لیے دارالامن بنا دیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اب اہل اسلام کے لیے فرض کے درجہ میں ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اپنا ملی اور دینی عمل مکمل طور پر امن کے حدود میں رہتے ہوئے انجام دیں۔ اب اُن کے لیے یہ جائز ہی نہیں کہ وہ پر امن طریق کار کو چھوڑ کر پُر تشدد طریق کار اختیار کریں۔

پُر امن طریق کار کی یہ فرضیت صحیح البخاری کی ایک روایت سے معلوم ہوتی ہے۔ حضرت عائشہ نے پیغمبر اسلام کی عمومی پالیسی کو بتاتے ہوئے کہا: ما خیر رسول الله صلى الله عليه وسلم بين امرين الا اختار ايسرهما (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو امر میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ مشکل طریقہ کو چھوڑ کر آسان طریقہ اختیار فرماتے)۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2003 All issues

Printed page