Al-Risala · December 2003 · page 62

دارالاسلام، دارالحرب

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۶۲

اس حدیث کے مطابق ، پرتشدد طریقہ کار ایک مشکل طریقہ کار ہے اور پرامن طریقہ کار ایک آسان طریقہ کار ۔ اب سنّت رسول کی پیروی میں اہل اسلام کو یہ کرنا ہے کہ وہ پرتشدد طریقہ کار سے مکمل طور پر بچیں ، اور پرامن طریقہ کار پر سختی کے ساتھ کاربند رہتے ہوئے اپنا دینی اور ملّی مقصد حاصل کریں ۔ اب پرتشدد طریقہ کار کو استعمال کرنا سنّت رسول کی کھلی خلاف ورزی ہے ، اور جو لوگ سنّت رسول کی خلاف ورزی کریں وہ کبھی فلاح پانے والے نہیں ۔

مذکورہ تفصیل کی روشنی میں یہ بات حتمی طور پر واضح ہو جاتی ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو دوسری قوموں کی طرف سے جس متشددانہ سلوک کا تجربہ ہو رہا ہے وہ دوسری قوموں کے ظلم کی بنا پر نہیں ہے بلکہ اُس کا سبب تمام تر یہ ہے کہ مسلمانوں نے سنّتِ رسول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ کیا کہ انہوں نے پرامن طریقہ کار کو چھوڑ کر پرتشدد طریقہ کار کو اختیار کر لیا۔ اب وہ جس ہلاکت کا تجربہ کر رہے ہیں اُس کا سبب خود اُن کا مسنون طریقہ کار سے انحراف ہے ، نہ کہ کسی مفروضہ دشمن کی طرف سے سازش یا ظلم کا معاملہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2003 All issues

Printed page