قومیت کا مسئلہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۷۰
قومیت کا مسئلہ
سید جمال الدین افغانی ۱۸۳۸ میں پیدا ہوئے اور ۱۸۹۷ میں اُن کی وفات ہوئی۔ وہ اُس نظریہ کی ایک علامت ہیں جو ترکی کے سلطان عبدالحمید کی حمایت سے شروع ہوئی اور جس کو اتحادِ اسلامی (پان اسلامزم) کہا جاتا ہے۔ سید جمال الدین افغانی کے زمانہ میں تقریباً پوری مسلم دنیا انگریزوں اور فرانسیسیوں کی سیاسی ماتحتی میں آ گئی تھی۔ جمال الدین افغانی اس مغربی اقتدار کو ختم کرنے کے لیے اُٹھے۔ اس مقصد کو طاقت دینے کے لیے اُنہوں نے اتحادِ اسلامی کا نظریہ بنایا۔ اُن کا کہنا تھا کہ تمام دنیا کے مسلمان، خواہ وہ اکثریتی ملک میں ہوں یا اقلیتی ملک میں، وہ سب کے سب ایک واحداُمّت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ سب کے سب ایک ہی سیاسی وحدت میں بندھے ہوئے ہیں۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اسی نظریہ کے مطابق کہا کہ تمام دنیا کے مسلمان ایک انٹرنیشنل پارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آیت اللہ خمینی اور دوسرے رہنماؤں نے اس کو الأئمہ (Ummah) کا لفظ دیا جو بہت جلد تمام دنیا کے مسلمانوں میں مقبول ہو گیا۔ اسی نظریہ کو اقبال نے اپنے ایک شعر میں اس طرح بیان کیا ہے:
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کا شغر یہ بین اقوامی نظریہ نو آبادیاتی دور میں حالات سے متصادم نہیں معلوم ہوتا تھا۔ اُس وقت دنیا کے بیشتر ملک عملاً ایک ہی سیاسی نظام کے تحت تھے۔ تقریباً تمام مسلمان اس ایک سیاسی نظام کے شہری شمار ہوتے تھے۔ مگر جب نو آبادیاتی نظام ٹوٹا اور نیشنلزم کا دور آیا تو بہت سی الگ الگ سیاسی وحدتیں بن گئیں ۔ پہلے اگر ایک ایمپائر کی وفاداری کا مسئلہ تھا تو اب ایک سو قومی وحدتوں کی الگ الگ وفاداری کا مسئلہ سامنے آگیا:
Pan-Islamism was the dominant ideology of the Muslim world of the 19th century before the rise of Nationalism. (7:719)
‹ Previous page Next page › Contents of December 2003 All issues