Al-Risala · December 2003 · page 71

قومیت کا مسئلہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۷۱

دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا کا نقشہ بدلا تو مسلمان فکری اعتبار سے ایک پیچیدہ صورت حال میں مبتلا ہوگئے ۔ جو لوگ عالمی قومیت کے ڈھانچہ میں اپنی سیاسی شناخت بنائے ہوئے تھے، اب اُن کو مقامی قومیت کے ڈھانچے میں دوبارہ اپنی سیاسی شناخت کو تلاش کرنا پڑا۔ اس نازک وقت میں، میرے علم کے مطابق ، پوری مسلم دنیا میں صرف ایک عالم تھا جس نے اس سوال کا جواب فراہم کرنے کی کوشش کی ۔ یہ مولانا سید حسین احمد مدنی (۱۹۵۷ء-۱۸۷۹ء) تھے۔ انہوں نے ۱۹۴۷ سے پہلے کی ہنگامی سیاست کے زمانہ میں یہ جرأتمندانہ اعلان کیا کہ : فی زمانہ قومیں اوطان سے بنتی ہیں۔ یہ بلا شبہہ ایک اجتہادی رہنمائی تھی۔ مگر بدقسمتی سے مولانا موصوف کی وفات کے بعد خود دیوبند کے علماء نے یہ اعلان کر کے اُس کو کا لعدم کر دیا کہ : حضرت نے اس سلسلہ میں جو فرما یا وہ صرف ایک خبر تھی، وہ انشا نہ تھی۔

یہ معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ یہ بے حد نازک معاملہ ہے۔ ضرورت ہے کہ اس معاملہ میں انتہائی غیر جانبدارانہ انداز کے ساتھ غور کیا جائے ۔ مذکورہ اعلان کردہ موقف کی صورت میں نظری یا اعتقادی پوزیشن یہ ہے کہ تمام دنیا کے مسلمانوں کی قومیت (Nationality) اسلام ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ مسلمانوں کی سیاسی وفاداری مشترک طور پر اُن کے مذہب کے ساتھ وابستہ ہے۔ اب جب کہ ہر ملک میں نیشنلٹی کو وطن (home-land) کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے تو یہ نظریہ ہر جگہ مقامی تقاضوں سے متصادم ہو گیا ہے۔

مثلاً امریکا یا برطانیہ یا انڈیا میں جدید تصور قومیت کا تقاضا یہ ہے کہ ان ملکوں میں بسنے والے مسلمانوں کی سیاسی وفاداریاں صرف اپنے وطن کے ساتھ وابستہ ہوں، اُن کی کوئی خارج از وطن سیاسی وفاداری (extra-terrestrial loyalty) نہ ہو۔ جب کہ الأمہ کا نظریہ برعکس طور پر یہ کہتا ہے کہ مسلمانوں کی وفاداریاں بین اقوامی اسلام کے ساتھ ہونی چاہئیں ، نہ کہ ملکی وطنيت کے ساتھ ۔ اس تضاد نے ساری دنیا کے ہر اُس ملک میں مسلمانوں کی نیشنل وفاداری کو مشتبہ کر دیا ہے جہاں مسلمان ایک اقلیت کے طور پر رہتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2003 All issues

Printed page