قومیت کا مسئلہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۷۳
گا۔ اُن کا روحانی ارتقاء (spiritual development) رک جائے گا۔ اُن کے اندر فکری عمل (intellectual process) جاری نا ہو سکے گا۔ اُن کی شخصیت ارتقائی منازل طے کرنے سے محروم ہو جائے گی۔ وہ اُس عظیم نعمت سے لذت نہ آشنا ہو جائیں گے جس کو قرآن میں ازدیادِ ایمان (الفتح ۴) کہا گیا ہے۔ اس صورت حال کا آخری نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ جمود ذہنی کا شکار ہو کر رہ جائیں گے۔ وہ اس قابل نہ رہیں گے کہ وہ علم و فکر کے اعتبار سے دنیا میں کوئی بڑا کارنامہ انجام دے سکیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ہر پیغمبر کی امت کو خدا کی طرف سے الگ الگ شریعت اور منہاج دیا گیا (المائدہ ۴۸)۔ یہ بات بظاہر امت کے حوالے سے کہی گئی ہے، مگر وہ حقیقۃً زمانہ کی نسبت سے مقصود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر زمانہ کے لوگوں کو ان کے زمانی حالات کی نسبت سے انہیں شریعت اور منہاج عطا کیا گیا۔ اسی لیے فقہ میں یہ متفقہ مسئلہ بنا ہے کہ: تتغیر الاحکام بتغیر الزمان والمکان (زمانہ اور مقام کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں)۔
تشریع الہی کا یہ اصول صرف پیغمبر اسلام سے پہلے کے لوگوں کے لیے نہیں تھا۔ بلکہ وہ پیغمبر اسلام کے بعد آپ کی امت کے لیے بھی اسی طرح مطلوب ہے۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ پچھلی امتوں کو براہِ راست پیغمبر کے ذریعہ اس تبدیلیِ حکم کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اور اب ختم نبوت کے بعد علماء کے اجتہاد کے ذریعہ تبدیلیِ حکم کا یہ کام انجام پائے گا۔
اس تشریعی اصول کے مطابق، بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ قومیت (nationality) کے معاملہ میں موجودہ زمانہ میں جو تصور عالمی سطح پر رائج اور مسلم ہو گیا ہے اس کی روشنی میں اجتہاد کر کے دوبارہ اس معاملہ میں شریعت کا موقف متعین کیا جائے گا۔ اور یہ موقف وہی ہے جس کا اعلان ۱۹۴۷ سے پہلے کے زمانہ میں مولانا سید حسین احمد مدنی نے کیا تھا۔
یہ شرعی موقف یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان عقیدہ اور مذہب کے اعتبار سے بلاشبہ ایک عقیدہ اور ایک مذہب رکھتے ہیں مگر جہاں تک قومیت کا تعلق ہے وہ ملک کی نسبت سے متعین ہوگی۔ یعنی ہر ملک کے مسلمانوں کی قومیت وہی قرار پائے گی جو اس ملک کے دوسرے گروہوں کی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2003 All issues