قومیت کا مسئلہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۷۲
یہ ایک بے حد سنگین مسئلہ ہے۔ خالص نظری طور پر مسلمانوں کے لیے دو میں سے ایک کا چوائس ہے۔ یا تو وہ اپنے اعلان کردہ موقف کے مطابق، یہ کہیں کہ ہم عالمی اسلامی قومیت کے فرد ہیں، ہم مقامی قومیت کے قائل نہیں۔ وہ اس موقف کو اختیار کریں اور پھر اُس کی ہر قیمت کو دل کی آمادگی کے ساتھ ادا کریں۔ مثلاً اگر کسی ملک میں اُن کی وطنی وفاداری کو مشتبہ سمجھ کر انہیں ملکی فوج میں نہ لیا جائے، انہیں وزارت خارجہ میں شامل نہ کیا جائے، انہیں سفیر کا عہدہ نہ ملے، ملک کی بین اقوامی نمائندگی کے فورم میں اُن کو جگہ نہ دی جائے، اُن کو اپنے ملک میں درجہ دوم کا شہری سمجھا جائے تو انہیں چاہئے کہ وہ اُسے اپنے عقیدہ کی فطری قیمت سمجھ کر اُس کو قبول کریں۔
مسلمانوں کے لیے دوسرا چوائس یہ ہے کہ وہ کھلے طور پر یہ اعلان کریں کہ الأئمہ کا مذکورہ بین اقوامی نظریہ کچھ مسلم رہنماؤں کا ذاتی نظریہ تھا جو انہوں نے مخصوص حالات کے رد عمل میں اختیار کیا اور اُس کو غلط طور پر اسلام کا نام دے دیا۔ اب ہم اس نظریہ کو رد کرتے ہیں اور جیسا کہ مولا نا حسین احمد مدنی نے اعلان کیا تھا، ہم اس رائے کو اختیار کرتے ہیں کہ عقیدہ اور مذہب کے اعتبار سے بلاشبہ تمام دنیا کے مسلمان ہم مذہب ہیں مگر جہاں تک قومیت (nationality) کا تعلق ہے، ہر مسلمان کی قومیت وہی ہے جو اس کا وطن ہے۔ قومیت کا تعلق وطن سے ہے، نہ کہ مذہب سے۔ یہ اعلان اگر مسلمانوں کی طرف سے کھلے طور پر کر دیا جائے تو مذکورہ تضاد ختم ہو جائے گا اور پھر کسی کو یہ موقع نہ ہوگا کہ وہ اُن کی وطنی وفاداری پر شک کرے۔
مسلمان اگر ان دونوں میں سے کوئی موقف اختیار نہ کریں بلکہ وہ یہ کریں کہ موقف کے بارے میں کھلے اعلان کے بغیر وہ اپنے اپنے ملک کی مادی تقسیم میں اپنا حصہ لینے لگیں تو یہ ایک منافقانہ روش ہوگی۔ یعنی اپنے نظری یا اعتقادی موقف میں تبدیلی کا اعلان کیے بغیر خاموشی کے ساتھ اپنے عملی موقف کو بدل لینا۔ اس قسم کی روش ایک افادی (utilitarian) روش قرار پائے گی، نہ کہ کوئی اصولی روش۔ اس طرح دوعملی کی روش اختیار کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کے نقصانات بے حد سنگین ہیں۔ ایسا کرنے کی صورت میں یہ ہوگا کہ مسلمانوں کے اندر سے با اصول کردار کا مزاج ختم ہو جائے
‹ Previous page Next page › Contents of December 2003 All issues