Al-Risala · December 2003 · page 76

کفر اور کافر کا مسئلہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۷۶

پیمانہ پر خود مسلمانوں کا مسئلہ بن چکا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس مسئلہ کو گہرائی کے ساتھ سمجھا جائے اور اس کے صحیح مفہوم کو سامنے لایا جائے تا کہ اسلام لوگوں کو وقت کا مذہب معلوم ہو اور مسلم اور غیر مسلم دونوں جدید سماج میں معتدل طور پر دوسروں کے ساتھ رہ سکیں۔

گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ سارا معاملہ غلط فہمی پر مبنی ہے۔ رواجی تصور میں یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ کافر اور غیر مسلم دونوں ہم معنی الفاظ ہیں۔ جو لوگ مسلمان نہیں وہ سب کے سب کافر ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک غلط تصور ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کافر کا لفظ غیر مسلم کے مترادف نہیں: The word Kafir is not synonymous with non-Muslim. داعی اور مدعو کا رشتہ شریعت کے اعتبار سے مسلمان کی حیثیت داعی کی ہے اور غیر مسلم کی حیثیت مدعو کی۔ یہ رشتہ لازم کرتا ہے کہ داعی اپنے مدعو کے ساتھ ہمیشہ معتدل تعلق قائم رکھے۔ کہا جاتا ہے کہ تاجر کو ہمیشہ کسٹمر فرینڈلی (customer friendly) ہونا چاہئے۔ اسی طرح داعی کا فارمولا یہ ہونا چاہئے کہ وہ ہمیشہ مدعو فرینڈلی ہو۔ Be always Mad'u friendly. مدعو کے حق میں داعی کے اندر خیر خواہانہ جذبات ہونے چاہئیں۔ اگر داعی کے اندر مدعو کے لیے یہ مطلوب جذبات موجود ہوں تو وہ ہر گز اس کو پسند نہیں کرے گا کہ وہ ایسے الفاظ بولے جس سے مدعو کے دل میں اُس کے خلاف نفرت پیدا ہو جائے۔ حتیٰ کہ اگر وہ سچا داعی ہے تو اپنے دل میں بھی وہ ایسی بات نہیں سوچے گا۔ دعوت کا جذبہ نفرت کا قاتل ہے۔ داعی کا دل ایک درد مند دل ہوتا ہے۔ ایسے دل کے اندر محبت اور خیر خواہی کے سوا کوئی اور چیز پرورش نہیں پاسکتی۔

قدیم زمانہ میں آرین لوگ جب انڈیا میں آئے تو یہاں کے مقامی لوگوں کو انہوں نے ملیچھ کہا۔ اسی طرح مسیحی علماء نے مسلمانوں کو اپنی کتابوں میں انفڈل (Infidels) لکھا۔ ملیچھ اور انفڈل دونوں تحقیری الفاظ (derogatory words) ہیں۔ کہنے والا ان الفاظ کو بول کر خوش ہوتا ہے مگر جس کے بارے میں یہ لفظ بولا گیا ہے وہ اس کو سخت نا پسند کرتا ہے۔ اس معاملہ میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ ایسے الفاظ

‹ Previous page Next page › Contents of December 2003 All issues

Printed page