Al-Risala · December 2003 · page 77

صا مسل

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۷۷

استعمال کئے جائیں جن میںکوئی تحقیری مفہوم (derogatory sense) نہ ہو بلکہہ وہ سادہ طور پر صرف اظہار واقعہ کے ہم معنی ہو۔

بدقسمتی سے اس معاملہ میں مسلم علماء احتیاط کا پہلو اختیار نہ کر سکے۔ وہ اپنی کتابوں میں اور قرآن کے ترجموں میں کافر کے لیے بے تکلف انفڈل کا لفظ استعمال کرنے لگے۔ مثال کے طور پر مولانا عبد الماجد دریا بادی نے اپنے انگریزی ترجمہ قرآن میں قل یا ایھا الکافرن کا ترجمہ ان الفاظ میں کیا ہے:

Say thou: infidels (4:535)

صا مسل

دراصل مسلم علماء اور رہنماؤں کی اسی قسم کی غیر احتیاطی باتیں ہیں جن کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان سخت تناؤ پیدا ہوگیا ہے جس کا نتیجہ مختلف ناخوشگوار صورتوں سامنے آتا رہتا ہے۔

یہی غلطی قرآن کے اردو اور فارسی مترجمین نے بھی کی ہے۔ قرآن کے بہت سے ترجمے شائع ہوئے ہیں۔ مگر غالباً صرف ایک مترجم (شاہ عبدالقادر) کو چھوڑ کر تمام مترجمین نے اس معاملہ میں بے احتیاطی کا انداز اختیار کیا ہے۔ قل یا ایھا الکافرون کے کچھ ترجمے یہاں نقل کیے جاتے ہیں: بغوائے کا فراں (شاہ ولی اللہ)

کہ اے کافرو (شاہ رفیع الدین)

آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے (اشرف علی تھانوی)

کہہ دو کہ اے کافرو (ابوالاعلیٰ مودودی)

کہہ دو، اے کافرو (امین احسن اصلاحی)

تو کہہ، اے منکرو (شاہ عبدالقادر)

اس قرآنی آیت کے تحت اکثر مترجمین نے اسی قسم کے ترجمے کئے ہیں۔ اس آیت کا ترجمہ درست نہیں ۔ بالفرض وہ خالص لغوی اعتبار سے غلط نہ ہو تب بھی وہ دوسری قوموں کے لیے ایک

‹ Previous page Next page › Contents of December 2003 All issues

Printed page